اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی ترکی میں منعقدہ انطالیہ سفارتی فورم کے موقع پر ازبکستان کے وزیر خارجہ، عبدالعزیز کامیلوف کے ساتھ ملاقات ۔دوران ملاقات دو طرفہ تعلقات ،مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، ازبکستان کو وسط ایشیائی ممالک میں ایک اہم برادر ملک سمجھتا ہے۔پاکستان اور ازبکستان کے درمیان عقیدے، مشترک تاریخ اور ثقافتی ہم آہنگی پر مبنی خوشگوار تعلقات استوار ہیں۔کثیرالجہتی شعبہ جات میں دوطرفہ تعاون کے فروغ سے، دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملی۔گذشتہ تین برسوں میں ہمارے تجارتی و اقتصادی روابط میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔وزیر اعظم عمران خان اور ازبکستان کے صدر شوکت میرزیوئیف کے درمیان ہونیوالے پہلے ورچوئل سربراہی اجلاس کو دونوں جانب سراہا گیا ۔اس ورچوئل اجلاس سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کا تجزیہ کرنے اور انہیں مزید مستحکم بنانے کیلئے رہنمائی ملی ۔پاکستان اور ازبکستان کے مابین ریل کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور عوامی روابط کو مزید فروغ دے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اقتصادی تعاون کا فروغ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ہم ازبکستان سمیت وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ روابط بڑھانا چاہتے ہیں۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین افغان امن عمل کے حوالے سے بھی تبادلہ ء خیال ہوا۔ افغانستان میں قیام امن نہ صرف افغانوں کیلئے بلکہ پورے خطے کی تعمیر و ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ کا پاکستان، ازبکستان کے درمیان معاشی شراکت داری کے فروغ اور خطے میں قیام امن کیلئے مشترکہ کوششیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیر خارجہ کی ترکی میں منعقدہ انطالیہ سفارتی فورم کے موقع پر ازبکستان کے وزیر خارجہ، عبدالعزیز کامیلوف کے ساتھ ملاقات



