کراچی (نیشنل ٹائمز) عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی، مارکیٹ میں برطانوی اور امریکی خام تیل کی قیمتیں رواں سال کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد تک کی بڑی کمی ہوگئی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے سودے 70 ڈالر فی بیرل میں دستیاب ہیں جبکہ برینٹ 73 ڈالر فی بیرل کی سطح پر موجود ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ اس وقت تیل کی قیمتیں 9 ماہ کی کم ترین سطح پر موجود ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمت میں کمی امریکا اور چین میں کھپت سے متعلق خدشات پر ہوئیں۔ دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کو فائدہ ہوگا اور س سے ملک کے تجارتی توازن اور مہنگائی کی شرح پر مثبت اثر پڑیگا۔
بروکریج ہاؤس جے ایس گلوبل نے جمعرات کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان تیل درآمد کرنے والا ملک ہونے کے ناطے تیل کی قیمتوں میں جاری بہتری کے موافق اختتام پر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پٹرولیم درآمدات کل درآمدات کا تقریباً 30 فیصد اور مجموعی برآمدی آمدنی کا تقریباً 55 فیصد ہیں، جو انہیں تجارتی خسارے کا ایک اہم محرک بناتی ہیں، اور تیل کی قیمتیں مہنگائی کی ٹوکری کے 6 فیصد وزنی ٹرانسپورٹ سیکٹر پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔بروکریج ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ تخمینہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ پانچ ماہ کے دوران تیل کی عالمی قیمتوں میں تقریبا 20 فیصد یعنی 17 ڈالر فی بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے اور یہ 15 ماہ کی کم ترین سطح 72.9 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اوپیک پلس کی پیداوار میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ چین کی اقتصادی ترقی کے خدشات اور عالمی کساد کے امکانات قیمتوں میں کمی کے پیچھے کچھ اہم عوامل ہیں۔ادارہ شماریات کے تازہ ترین اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بروکریج ہاؤس نے کہا کہ جولائی 2024 کے تجارتی اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اوسطا 83 ڈالر فی بیرل پر خریدی گئیں، جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اس سطح سے 12 فیصد یعنی 10 ڈالر فی بیرل کم ہوئی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل کی درآمدی قیمتوں میں کمی درآمدی بل پر مثبت اثرات مرتب کرے گی جس سے مالی سال 25 کے لیے ہمارے سی اے ڈی (کرنٹ اکاؤنٹ خساری) کے تخمینے میں تقریباً 80 0 ملین ڈالر (جی ڈی پی کا 0.2 فیصد) کی کمی آئے گی۔مزید برآں 5 ڈالر فی بیرل کی کمی سے سالانہ درآمدی بل میں تقریبا 900 ملین ڈالر یعنی جی ڈی پی کا 0.25 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ پاکستان کی ترسیلات زر کا 55 فیصد حصہ مشرق وسطیٰ سے آتا ہے جو کہ تیل کی آمدنی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اس لیے تیل کی قیمتوں میں طویل عرصے تک کمی ان ممالک کی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے اور اس طرح ترسیلات زر کا موجودہ سطح سے بہاؤ کمزور ہو سکتا ہے۔



