افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی

کابل(نیشنل ٹائمز) افغانستان میں اگست 2021 میں افغان طالبان کی اقتدار پر قبضے اور افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شدت پسند کارروائیوں میں کمی آئی ہے تاہم اب بھی نام نہاد داعش جیسی تنظیمیں دھماکے کر رہی ہیں. ساؤتھ ایشین ٹیررازم پورٹل مختلف ممالک کی شدت پسند کارروائیوں کی اعداد و شمار اکٹھے کرتی ہے ادارے کے مطابق اگست 2021 کے بعد ملک میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں بم دھماکوں میں تقریباً 200 فیصد کمی آئی ہے.

ادارے کے اعدادو شمار کے مطابق 2021 میں جس میں افغان طالبان سے پہلے کا دور بھی شامل ہے میں 280 بم دھماکے ہوئے تھے جس میں 791 افراد جان سے گئے تھے جبکہ 2022 میں یہ تعداد کم ہو کر 104 تھی اور دھماکوں میں 326 افراد جان سے گئے تھے اسی طرح 2023 میں مجموعی طور پر 36 بم دھماکے ہوئے تھے تھے جس میں 87 عام لوگ جان سے گئے تھے جبکہ 2024 میں اب تک 24 بم دھماکوں میں 48 افراد جان سے گئے ہیں.
دارالحکومت کابل میں گذشتہ روز دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں چھ افراد جان سے گئے ہیں جبکہ پولیس کے مطابق 13 افراد زخمی ہو گئے ہیں کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران کے مطابق دھماکہ جسم سے باندھے دھماکہ خیز مواد سے ایک شخص نے دھماکہ کیا اور جان سے جانے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے. افغانستان میں یوں تو شدت پسندی میں کمی ضرور آئی ہے لیکن اب بھی مختلف اوقات میں بم دھماکے اور خود کش حملے کیے جاتے ہیں جس میں سب سے زیادہ رپورٹس کے مطابق نام نہاد تنظیم داعش ملوث ہوتی ہے.
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں26 اگست 2021کوافغان طالبان کے 16 اگست کو کابل پر قبضے کے بعد سب سے بڑا حملہ کابل ایئر پورٹ پر کیا گیا تھا جس میں غیر ملکیوں سمیت 200 سے زائد افراد جان سے گئے تھے جان سے جانے والے وہ لوگ تھے جو افغان طالبان کے آنے کے بعد ملک سے نکلنا چاہتے تھے اس حملے کی ذمہ داری نام نہاد داعش تنظیم نے قبول کی تھی.
سال2022میں پانچ خودکش حملے اور دھماکے ہوئے جن میں 61افرادہلاک اور75سے زائدزخمی ہوئے ان میں روس اور پاکستان کے کابل میں سفارت خانوں پر حملے بھی شامل ہیں اس کے علاوہ مساجد‘تعلیمی اداروں اور بازاروں میں بھی دھماکے کیئے گئے جن کی ذمہ داری ”داعش“نے قبول کی سال2023میں حملوں کی تعدادمیں نمایاں کمی آئی اور کابل ایئرپورٹ کے باہر اورپولیس اہلکاروں کی بس میں دودھماکے ہوئے جن میں17افرادجان سے گئے اور27زخمی ہوئے جبکہ سال2024میں اب تک ہونے والے بڑے دھماکوں میں قندھار میں نیو کابل بینک کے ایک برانچ کے باہر دھماکے کے نتیجے میں 20 افراد جان سے گئے جس میں افغان طالبان کے لوگ بھے شامل تھے اس دھماکے میں 50 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے تاہم نیو یارک ٹائمز کے مطابق افغان طالبان نے اس دھماکے میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی اور اس کی ذمہ دادی داعش پر ڈالی تھی۔



  تازہ ترین   
قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ
امریکہ-ایران جنگ بندی ہوگئی، 60 دنوں میں مستقل معاہدے کی امید ہے، وزیراعظم شہباز شریف
آبنائے ہرمز عالمی گزر گاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا کا واضح پیغام
امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کر لی
صدر مملکت کا سفارتکاری، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے پر خواتین کو خراجِ تحسین
منجمد فنڈز سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کوئی لازمی شرط نہیں، ایران
ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کا حصہ نہیں رہا: وزیراعظم
ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر