چیف جسٹس نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ترقی دینے کے معاملے پر غورکے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی نے جوڈیشل کمیشن پاکستان رولز 2024 پر غور کرنے کے لیے کا جے سی پی کا اجلاس 13 ستمبر کو طلب کرلیا رپورٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن پاکستان اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی ترقی پر غور کرے گی اور اگر 13 ستمبر کو ایجنڈا مکمل نہیں ہوا تو اس معاملے پر بحث اگلے دن تک جاری رہ سکتی ہے.

اجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس منظور احمد ملک، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین بھی شرکت کریں گے. کمیشن کی آخری میٹنگ 3 مئی کو ہوئی تھی لیکن یہ بے نتیجہ رہی کیونکہ وزیر قانون نے کمیشن کو وفاقی حکومت کے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ترقی دینے کے موجودہ عمل کو تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترامیم متعارف کرانے کے ارادے سے آگاہ کیا.
کمیٹی کی سفارشات تجویز کرتی ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کے چیئرپرسن چیف جسٹس سپریم کورٹ کی ہر اسامی کے لیے تین نام بھیجیں اور اس آسامی کے خالی ہونے سے 15 دن قبل غور و خوض کے لیے جوڈیشل کمیشن پاکستان کی میٹنگ بلائیں گے اسی طرح ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی تقرری کے لیے چیئرپرسن اسامی خالی ہونے سے کم از کم ایک ماہ قبل متعلقہ ہائی کورٹ کے پانچ سینئر ترین ججوں کے حوالے سے غور کرنے کے لیے ایک میٹنگ بلائیں گے، ہائی کورٹ کے جج کی تقرریوں کے لیے، چیئرپرسن اسامی سے 60 دن پہلے متعلقہ سلیکشن کمیٹی سے نامزدگیوں کی درخواست کرے گا اور اسامی سے 30 دن قبل غور و خوض کے لیے کمیشن کا اجلاس بلائے گا.
سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد کے بارے میں ایکٹ 1997 میں ترمیم کے لیے مسلم لیگ (ن) کے دانیال چوہدری کی جانب سے ایک پرائیویٹ ممبر بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے جس کا مقصد سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 17 سے بڑھا کر 22 کرنا ہے. آئین کا آرٹیکل 176 صدر کو سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد کا تعین کرنے کا اختیار دیتا ہے ججوں کی تعداد کے تعین میں لچک کی اجازت دیتا ہے سپریم کورٹ کے ججوں کی موجودہ تعداد کا تعین کیسے کیا گیا اس کی تاریخ پر بات کرتے ہوئے سینئر وکیل محمد اکرم شیخ نے نجی ٹی وی کو بتایاکہ نواز شریف کی حکومت نے 1997 میں ججوں کی تعداد 17 سے کم کر کے 12 کر دی تھی 1997 میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اس وقت کے صدر کی حیثیت سے اکرم شیخ نے حکومت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے نتیجے میں اس وقت کے اٹارنی جنرل چوہدری محمد فاروق سپریم کورٹ کے سامنے یہ بیان دینے پر مجبور ہوئے کہ حکومت قانون سازی واپس لے رہی ہے اور 17 ججوں کی اصل طاقت پر واپس جا رہی ہے.
اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ مستحکم جمہوریت کے لیے ایک مضبوط اور آزاد عدلیہ ضروری ہے انہوں نے خبردار کیا کہ ججوں کی قانونی طاقت بڑھانے کی کسی بھی کوشش کو سپریم کورٹ کو بھرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا اور ممکنہ طور پر اس کا مقصد مخصوص نشست کے معاملے میں 12 جولائی کے فیصلے کو کالعدم کرنا ہے. انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کے لیے مجوزہ قانون سازی کی مشق عدلیہ کی آزادی کو مجروح کرتی ہے جس سے عدالتی احکامات کو نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت پر سمجھوتہ ہو جائے گا خاص طور پر 12 جولائی کے فیصلے کے تناظر میں انہوں نے بتایاکہ عالمی سطح پر مقدمات کے زیر التوا ہونے کے باعث ججوں کی طاقت میں اضافہ نہیں کیا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ کارکردگی اور بینچوں کی مناسب تشکیل کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے پاس ہمیشہ ایڈہاک جج کو شامل کرنے کا اختیار ہے ایڈہاک ججز وہ ہوتے ہیں جو سیاسی مقدمات کی سماعت میں شامل نہیں ہوتے لیکن مقدمات کو نمٹانے میں مدد کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں.



  تازہ ترین   
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے پا گیا
آزاد کشمیر انتخابات کا تیسرا مرحلہ، پونچھ اور پلندری میں پولنگ ملتوی
ترک صدر آج سعودیہ پہنچیں گے، شہباز شریف، محمد بن سلمان سے ملاقات طے
خیبرپختونخوا میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 10 خارجی ہلاک
عدالت نے ایل پی جی کمپنیوں کی اضافی پریمیم وصولی فوری روک دی
سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت
تحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی، ایاز صادق کا مؤقف
تھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 9 افراد ہلاک، 15 زخمی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر