وزیراعظم آفس اپنی ہی کفایت شعاری پالیسی کو کسی خاطر میں نہ لایا

اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز) حکومت کیلئے کفایت شعاری کی پالیسی منظور کرنے والے وزیراعظم آفس نے اپنی ہی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ملازمین کو اعزازیہ سے نواز دیا۔ صحافی انصار عباسی نے رپورٹ کیا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزیراعظم آفس نے مالی سال 2022/23ء کے دوران آپریشنل اخراجات کے حوالے سے کفایت شعاری پالیس پر عمل نہیں کیا، وزیراعظم آفس کی انتظامیہ نے مخصوص ہیڈ آف اکاؤنٹس پر خرچ کیا، وزیراعظم آفس کی انتظامیہ نے مالی سال 2021/23ء کے دوران اپنے ملازمین کو اعزازیہ کی ادائیگی کیلئے 10 کروڑ 89 لاکھ 4 ہزار510 روپے کے اخراجات کیے۔
بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم آفس کے ملازمین و افسران کو اعزازیے کی مد میں سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ رقم ملی، حالاں کہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت ہدایت کی گئی تھی کہ وفاقی کابینہ کی منظوری حاصل کرنے تک کوئی فورم وفاقی حکومت کے ملازمین کو ایک مالی سال کے دوران ایک بنیادی تنخواہ سے زیادہ اعزازیہ دینے کی منظوری نہیں دے گا۔

معلوم ہوا ہے کہ آڈٹ کا خیال ہے ملازمین و افسران کو سالانہ ایک سے زیادہ اعزازیے کی ادائیگی پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کو تفویض کردہ اختیارات کی خلاف ورزی تھی، اس حوالے سے آڈیٹرز کو انتظامیہ نے کوئی جواب نہیں دیا جس پرآڈیٹرز نے فنانس ڈویژن کے ملازمین و افسران کو سالانہ ایک سے زیادہ اعزازیہ کی ادائیگی کو باقاعدہ بنانے یا بے قاعدگی سے ادا کی گئی رقم واپس لینے کی سفارش کی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر کی انتظامیہ نے دواؤں کی خریداری پر 2020/23ء کے دوران ہیڈ نمبر A03927 کے تحت 78 لاکھ 95 ہزار 680 روپے خرچ کیے، آڈیٹرز نے مشاہدہ کیا کہ یہ خریداری مسابقتی ماحول کو یقینی بنائے بغیر کی گئی، سالانہ ٹینڈرنگ کے ذریعے مسابقتی نرخوں کا حاصل نہ کرنا پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004ء کی خلاف ورزی ہے جس سے غلط خریداری ہوتی ہے، اس ضمن میں بھی انتظامیہ نے آڈیٹرز کو کوئی جواب نہیں دیا۔
قواعد و ضوابط کے تحت ضروری ہے کہ پانچ لاکھ روپے سے زیادہ اور 30لاکھ پاکستانی روپے کی حد تک کی خریداریوں کو پیپرا کی ویب سائٹ پر ضابطے کے ذریعے بیان کردہ طریقے اور فارمیٹ میں مشتہر کیا جائے، پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کے قاعدہ 8 کے تحت تمام پروکیورنگ ایجنسیاں تمام مجوزہ خریداری کیلئے مفصل منصوبہ بندی کا ایک طریقہ کار وضع کریں گی جس کا مقصد پروکیورنگ ایجنسی کی ضروریات، اس کے دستیاب وسائل، ترسیل کے وقت یا تکمیل کی تاریخ اور فوائد کا حقیقت پسندانہ تعین کرنا ہے۔



  تازہ ترین   
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے پا گیا
آزاد کشمیر انتخابات کا تیسرا مرحلہ، پونچھ اور پلندری میں پولنگ ملتوی
ترک صدر آج سعودیہ پہنچیں گے، شہباز شریف، محمد بن سلمان سے ملاقات طے
خیبرپختونخوا میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 10 خارجی ہلاک
عدالت نے ایل پی جی کمپنیوں کی اضافی پریمیم وصولی فوری روک دی
سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت
تحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی، ایاز صادق کا مؤقف
تھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 9 افراد ہلاک، 15 زخمی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر