اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ایوان کی کاروائی کے دوران پارلیمانی روایات کو برقرار رکھنا اور ناخوشگوار واقعات کو رونما ہونے سے روکنا تمام پارلیمانی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تحریک عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا حق ہے، جانبدار نہیں، 7 ارکان کو ویڈیوز دیکھ کر معطل کیا، ایوان کو قواعد و قانون کے مطابق چلاوں گا، قومی اسمبلی میں پیش آنے والے واقعات افسوسناک ہیں، ایک دوسرے کو سنا جائے بجٹ پر فیصلہ عوام کرے، حکومت اپوزیشن دونوں ایوان کے ڈیکورم کا خیال رکھے، سب کو برابر کا موقع دیتا ہوں، 2020 میں 114 گھنٹے حکومت کو ملا 103 گھنٹے اپوزیشن کو ملا، ہاوس چلانے کے لیے کسی کو اٹھا کر ایوان سے باہر تو نہیں پھینک سکتا، کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں، ایوان کے تقدس کے لیے اقدام اٹھایا ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ہاس کے کسٹوڈین ہونے کی حیثیت سے انہوں نے جماعتی وابستگی سے بالا تر ہو کر ایوان میں ہنگامہ آرائی کرنے والے ممبران کے خلاف ایکشن لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے عوام کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں اس لیے انہیں زیادہ سے زیادہ محتاط رہنے کے لیے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے ہمیں غیر پارلیمانی رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے بہترین مثال قائم کرنا ہونگی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے رویوں سے جو گزشتہ دنوں ایوان میں رونما ہوئے سے ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اچھی مثال قائم نہیں قائم کر پائیں گے۔انہوں نے قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے ذریعے ہونے والی مشاورت سے بھی آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ پارلیمانی سال میں اپوزیشن کو بجٹ اجلاس کی بحث میں حصہ لینے کے لیے بھرپور موقع فراہم کیا گیا تھا۔ انہوں نے دونوں اطراف کے ممبران پر ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنے اور افہام و تفہیم سے معاملات حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کی صورتحال پر پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزرا کے خلاف ایکشن سے نہیں روکا ہے۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور بلاول بھٹو سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کا استعفیٰ مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کی خواہش ہو سکتی ہے تاہم میری کوشش ہے کہ ایوان کو قانون کے مطابق ہی چلایا جائے۔ اسد قیصر نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں سب کو دلیل سے بات کرنی چاہیے اور فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ بجٹ کیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف اور حکومتی اراکین سے بھی رابطے کیے ہیں بہر حال کسی کو ایوان سے اٹھا کر باہر تو نہیں پھینک سکتا۔ کچھ اراکین پر ایوان میں داخلے پر پابندی لگائی تو اس پر بھی اعتراض کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جو ایکشن لیا وہ اس وقت تک لیا جب تک میں اجلاس چلتا رہا۔ اجلاس کے بعد کی ویڈیوز دیکھ کر ایکشن لیا ہے اور جومینڈیٹ ملا ہے اس کے مطابق کام کروں گا۔
ایوان کی کاروائی کے دوران پارلیمانی روایات کو برقرار رکھنا اور ماحول کو سازگار بنانا حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ،اسپیکر قومی اسمبلی



