بھارت: ریزرویشن پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملک گیر بند

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سپریم کورٹ کے حکم کے فیصلے کے خلاف 21 تنظیموں نے بھارت بند کی کال دی تھی۔ بائیں بازو کی جماعتوں، جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم)، کانگریس، راشٹریہ جنتا دل، بہوجن سماج وادی پارٹی، سماج وادی پارٹی وغیرہ نے ملک گیر بند کی حمایت کی ہے۔

بند کا سب سے زیادہ اثر اترپردیش اور کیرالہ میں دیکھا گیا جبکہ دیگر ریاستوں میں اس کا ملا جلا اثر رہا۔

احتجاج کی وجہ سے سڑک اور ریل خدمات جزوی طور پر متاثر ہوئیں۔ کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے۔

حکام نظم ونسق برقرار رکھنے اور رکاوٹوں کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

جب کہ طبی اور ہنگامی خدمات جیسی ضروری خدمات جاری ہیں۔
بہار کے پٹنہ میں پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اشوک کمار سنگھ نے بتایا کہ پولیس کو “ہلکی طاقت” کا استعمال کرنا پڑا کیونکہ یہ “پرامن احتجاج” نہیں تھا اور “عام لوگوں کو سفر کرنے میں پریشانی ہو رہی تھی۔”

سپریم کورٹ نے کیا فیصلہ سنایا ہے؟
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایس سی،ایس ٹی کے لیے ریزرویشن زمروں میں ذیلی درجہ بندی کی اجازت دے دی ہے۔

اس کے مطابق ریاستوں کو صدارتی فہرست میں درج ایس سی،ایس ٹی ذاتوں کو ذیلی درجہ بندی کرنے کا حق حاصل ہے جس کا مقصد سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں انہیں “زیادہ” ترجیحی سلوک فراہم کرنا ہے۔
دلت تنظیموں کا کہنا ہے کہ ریزرویشن زمروں میں ذیلی درجہ بندی کی اجازت دینے والا فیصلہ سنا کر، سپریم کورٹ نے درحقیقت صدر اور پارلیمنٹ کے اختیارات کو منسوخ کر دیا ہے کہ وہ درج فہرست ذاتوں کی فہرست میں شامل یا خارج کر دیں۔

دلت تنظیموں نے مرکز پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹنے پر “وضاحت نہ دینے” کا بھی الزام لگایا، حالانکہ اس نے کہا تھا کہ آئین میں ایس سی اور ایس ٹی کے لیے ریزرویشن میں کریمی لیئر کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

دلت اور قبائل گروپوں کا اعتراض کیا ہے؟
بھارت بند کی کال دینے والی نیشنل کنفیڈریشن آف دلت اینڈ آدیواسی آرگنائزیشنز (این اے سی ڈی اے او آر) کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایس سی اور ایس ٹی(دلتوں) کے آئینی حقوق کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

مودی حکومت اسلام یا مسیحیت اپنانے پر ریزرویشن کے خلاف کیوں؟

ہندومت اور ذات پات

تنظیم کا کہنا ہے کے آئینی حقوق کو خطرے اس اندرا ساہنی کیس سے متصادم ہے، جس نے ریزرویشن فریم ورک قائم کیا تھا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس فیصلے کو مسترد کرے اور دلتوں اور قبائل کو حاصل ریزرویشن کے تحفظ کے لیے ایک نیا پارلیمانی ایکٹ نافذ کرے۔

اس کے ساتھ ہی ان دفعات کو آئین کے نویں شیڈول میں شامل کیا جائے تاکہ انھیں عدالتی نظرثانی سے بچایا جا سکے۔
اگرچہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ دلتوں میں سب سے پسماندہ گروہوں کو ریزرویشن پالیسی سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے، کچھ دلت رہنماؤں اور کارکنوں کو خدشہ ہے کہ اس سے متحدہ دلت تحریک قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تنظیم نے سرکاری ملازمین کے حوالے سے ذات پات کی بنیاد پر ڈیٹا جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور اعلیٰ عدلیہ میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی زمروں کی 50 فیصد نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے انڈین جوڈیشل سروس کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔



  تازہ ترین   
قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ
امریکہ-ایران جنگ بندی ہوگئی، 60 دنوں میں مستقل معاہدے کی امید ہے، وزیراعظم شہباز شریف
آبنائے ہرمز عالمی گزر گاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا کا واضح پیغام
امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کر لی
صدر مملکت کا سفارتکاری، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے پر خواتین کو خراجِ تحسین
منجمد فنڈز سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کوئی لازمی شرط نہیں، ایران
ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کا حصہ نہیں رہا: وزیراعظم
ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر