اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) 5 ہزار کے کرنسی نوٹ کی بندش کی تجویز سے متعلق گورنر اسٹیٹ بینک کی وضاحت۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد ںے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران سینیٹر محسن عزیز نے تجویز دی کہ ملک میں استعمال ہونے والے 5 ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو بند کر دیا جائے۔
5 ہزار روپے کا نوٹ کرپشن سمیت دیگر مسائل کی وجہ بن رہا ہے۔ اسے ختم ہونا چاہیے، یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا تھا۔ 5ہزار روپے کا نوٹ اگر آپ نے بند کردیا تو یقین دلاتا ہوں مارکیٹ میں یہ نوٹ 3 ہزارروپے کا فروخت ہوگا۔ اس پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے 5 ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو بند کرنے کی کسی تجویز پر غور نہیں کیا جا رہا ہے۔
اس کا غلط استعمال روکنا تو لا انفورسمنٹ ایجنسیوں کا کام ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ ڈیجٹیل کرنسی پر مرکزی بینک کام کر رہا ہے، پلاسٹک کرنسی پر بھی کرنے کے ساتھ نئے نوٹ لانے پر کام کر رہے ہیں، نئے ڈیزائن کے نوٹ پر کام مکمل ہونے پر کابینہ میں لائیں گے، رواں سال کے اختتام تک اس پر اپنے طور پر کام مکمل کرلیں گے۔ گورنر جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک تمام نوٹ تبدیل کرنے جارہا ہے، اس سال کے آخر تک نوٹ تبدیل کرنے کا عمل مکمل کرلیا جائے گا، نئے ڈیزائن کے نوٹ آنے کے بعد پانچ سالوں میں بالترتیب پرانے نوٹ ختم کریں گے۔
ہم پولیمر کرنسی کے نئے نوٹ لانے کی تیاری کررہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں کوئی ایک نوٹ پولیمر پیپر پر لانے کی تجویز ہے۔ یہ تیار کرکے کابینہ کو بھجوائیں گے، اگر کابینہ نے منظوری دی تو پھر ہم جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی نوٹ کی روک تھام کے لیے بہت سے ایڈوانس فیچرز آچکے ہیں ۔ پلاسٹک کے نئے نوٹ لانے کے لیے کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔
دیکھا جائے گا کہ اس کی عمر کیا ہے، فی نوٹ لاگت کیا ہے اور سکیورٹی فیچر کس قدر پائیدار اور طویل ہیں۔ ہ ابھی ہم نے ٹیسٹ کرنا ہے اسی لیے ابتدائی طور پر ایک نوٹ پلاسٹک کرنسی میں متعارف کروانا چاہ رہے ہیں۔ اگر یہ نوٹ پائیدار اور اس کے سکیورٹی فیچر لانگ ٹرم ہوئے تو ہم متعارف کروائیں گے، ورنہ یہ شاید قابل عمل نہ ہو۔



