کراچی (نیشنل ٹائمز) اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیسری مرتبہ کاروباری ہفتے کا مندی سے آغاز، آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری میں تاخیر ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے سیاسی عدم استحکام پر تحفظات اور اگلے بورڈ اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستان کا معاملہ شامل نہ ہونے کی افواہوں سے سرمایہ کاروں میں اضطراب کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو اتارچڑھاؤ کے بعد مندی رہی جس سے انڈیکس کی 78000 پوائنٹس کی نفسیاتی سطح بھی گرگئی۔
مندی کے سبب 62.35فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے 58ارب 20کروڑ 62 لاکھ 57 ہزار 395روپے ڈوب گئے۔ کاروبار کا آغاز تیری سے ہوا بعدازاں مارکیٹ اتارچڑھاؤ کا شکار رہی، اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر بینکنگ سمیت دیگر شعبوں میں خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 214.96 پوائنٹس کی کمی سے 77830.34 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
کاروباری حجم گذشتہ جمعہ کی نسبت کم رہا اور مجموعی طور پر 47کروڑ 17لاکھ 49ہزار 071 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 441 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 115 کے بھاؤ میں اضافہ، 275 کے داموں میں کمی اور 51 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کا اگست کے لیے کیلنڈر جاری کردیا گیا۔ اجلاس 28 اگست کو ہوگا جس میں پاکستان کا قرض پروگرام شامل نہیں ہے۔ چند روز قبل وزیر خزانہ کی جانب سے دعوٰی کیا گیا تھا کہ آئی ایم ایف اگست کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں پاکستان کیلئے قرض پروگرام کی منظوری دے دے گا۔



