اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) قومی اسمبلی میں حزب اختلاف نے کہا ہے کہ ایوان عمران خان کی قومی اسمبلی میں ہونے والے واقعات پر خاموشی ثابت کرتی ہے کہ یہ ساری ہلڑ بازی عمران خان کے ایماپر ہورہی ہے، سات اراکین پارلیمنٹ کے خلاف جو ایکشن لیا گیا اس کی تشہیر میڈیا کے ذریعے کی گئی ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسپیکر کو ان واقعات کی سنگینی کا اندازہ ہی نہیں۔ یہ بات بدھ کو قومی اسمبلی کے اسپیکر کے نام قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر حزب اختلاف کے پارلیمانی لیڈران کے لکھے گئے خط میں کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سات اراکین پارلیمنٹ کے خلاف جو ایکشن لیا گیا اس کی تشہیر میڈیا کے ذریعے کی گئی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسپیکر کو ان واقعات کی سنگینی کا اندازہ ہی نہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جب تک اسپیکر سب سے پہلے یہ تعین نہ کرلیں کہ ان واقعات کے ذمہ دار کون تھے حزب اختلاف کو اسپیکر کی غیرجانبداری اور ان کے ایوان کو پارلیمانی روایات کے مطابق چلانے میں ناکامی پر اپوزیشن کو کوئی اعتماد نہیں۔ خط میں 15جون کے ہونے والے واقعات کو بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حزب اختلاف کے خلاف حکومتی اراکین کی جانب سے جو حملہ کیا گیا اس پر اسپیکر نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ یہ شاید دنیا کی پارلیمانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جب حکومتی اراکین نے اسپیکر کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور حزب اختلاف پر حملہ کر دیا۔ اسپیکر اس تشدد پر خاموش رہے اور اپوزیشن سے ہونے والی زیادتیوں پر اپنی آنکھیں بند رہیں۔
قومی اسمبلی واقعات پرایوان عمران کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ ساری ہلڑ بازی عمران خان کے ایماپر ہورہی ہے، قائد حزب اختلاف شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اپوزیشن رہنمائوں کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط



