اسرائیل کے خلاف ممکنہ کارروائی، ایران نے مغربی مطالبات رد کر دیے

تہران (نیشنل ٹائمز) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی کی طرف سے آج منگل 13 اگست کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ”فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی طرف سے جاری اعلامیے میں اسرائیلی حکومت کے بین الاقوامی جرائم پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا، جبکہ ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایک ایسی حکومت کے خلاف جوابی کارروائی سے باز رہے، جس نے ایران کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف ورزی کی ہے۔

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ”اس طرح کی درخواست سیاسی منطق سے عاری ہے، بین الاقوامی قواعد اور قوانین سے متصادم ہے اور اسرائیل کے لیے عوامی اور عملی مدد پر مبنی ہے۔

‘‘

ایران اور اس کے اتحادی 31 جولائی کو حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ایک حملے میں ہلاکت کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتے ہیں۔

ہنیہ نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران گئے تھے۔ اسرائیل کی طرف سے ابھی تک ہنیہ کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ادھر پیر 12 اگست کو ایک بیان میں امریکہ اور اس کے بڑے یورپی اتحادیوں نے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے باز رہے۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا، ”ہم نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف فوجی حملے کی دھمکیوں کو ترک کر دے اور ہم نے اس طرح کے کسی حملے کی صورت میں نکلنے والے سنگین نتائج پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘‘

روسی صدر ولادیمیر پوٹن آج منگل 13 اگست کو ماسکو میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات چیت کریں گے۔

یہ بات کریملن کی طرف سے پیر کو رات گئے بتائی گئی۔
کریملن کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق، ”توقع ہے کہ فلسطینی اسرائیلی تنازعے کی موجودہ شدت اور غزہ پٹی میں انسانی حوالے سے تباہ کن صورتحال کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔‘‘

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بدھ 14 اگست تک ماسکو میں رہیں گے جس کے بعد وہ ترکی جائیں گے جہاں ان کی ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ ملاقات ہو گی۔

روس کے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت عرب ریاستوں کے سربراہان کے ساتھ قریبی رابطے ہیں۔ تہران میں اسماعیل ہینہ کی ہلاکت کی روس کی طرف سے مذمت کی گئی تھی اور ساتھ ہی اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ تمام فریق مشرق وسطیٰ کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلنے سے باز رہیں۔

روس کی طرف سے مغرب کو اس بات پر بھی مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملے کو نظر انداز کر رہا ہے۔

مغربی سفارت کار مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے کوشاں ہیں، جہاں غزہ کی جنگ کی وجہ سے پہلے ہی تناؤ عروج پر ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 142 فلسطینی مارے گئے جبکہ 150 سے زائد زخمی بھی ہوئے۔

پیر 12 اگست کو اس وزارت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سات اکتوبر کو شروع ہونے والی غزہ کی جنگ میں فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد اب 39,897 تک پہنچ گئی ہے،جبکہ 92000 ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

غزہ کی جنگ کا آغاز سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل میں ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد ہوا تھا جس میں 1198 افراد مارے گئے تھے جبکہ 250 کے قریب افراد کو حماس کے جنگجو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ غزہ پٹی لے گئے تھے۔



  تازہ ترین   
قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ
امریکہ-ایران جنگ بندی ہوگئی، 60 دنوں میں مستقل معاہدے کی امید ہے، وزیراعظم شہباز شریف
آبنائے ہرمز عالمی گزر گاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا کا واضح پیغام
امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کر لی
صدر مملکت کا سفارتکاری، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے پر خواتین کو خراجِ تحسین
منجمد فنڈز سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کوئی لازمی شرط نہیں، ایران
ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کا حصہ نہیں رہا: وزیراعظم
ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر