امریکی عدالت کی سوشل میڈیا پر غزہ جنگ اور اسرائیل کے خلاف مہم چلانے پر یونیورسٹی کے طالب کو 21 ماہ قید کی سزا

نیویارک (نیشنل ٹائمز) امریکہ میں سوشل میڈیا پر غزہ جنگ اور اسرائیل کے خلاف مہم چلانے‘ اپنے یہودی کلاس فیلو کو دھمکی دے کر ہراساں کرنے کے الزام میںیونیورسٹی کے ایک طالب علم کو 21 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے. سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے کا یہ واقعہ کورنیل یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے درمیان پیش آیا تھا جب امریکی یونیورسٹیوں میں غزہ میں اسرائیلی جنگ میں بچوں اور خواتین کی ہلاکتوں کی سطح بہت بلند ہوجانے پر سخت ردعمل تھا، طلبہ و طالبات اور اساتذہ تک جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے لیے دھرنے دے رہے تھے اور جنگ مخالف طلبہ احتجاج کو یہود دشمنی قرار دے کر ان کے خلاف مقدمے بنائے جا رہے تھے.

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق طالب علم پیٹرک ڈائی کو اسی وجہ سے ان کے یونیورسٹی کے سکول سے معطل کر دیا گیا ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے کالج بلیٹن میں بغیر نام کے پوسٹ کی تھیں جن میں یہودی طلبہ کو دھمکی اور خوف محسوس ہوا. نیویارک کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران پیٹرک ڈائی نے اس الزام کو قبول کیا کہ اس نے سوشل میڈیا پر جنگ کے خلاف مہم چلائی تھی بتایا گیا ہے کہ نومبر میں غزہ میں ہلاکتوں کے بعد امریکی تعلیمی اداروں میں شروع ہونے والے احتجاج کے دوران پیٹرک ڈائی پر الزامات عائد کیئے گئے امریکہ بھی اب سرکاری طور پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک ثالث ملک بن کر جنگ بندی کی کوششیں کر رہا ہے امریکی عدالت نے اس جنگ مخالف طالبعلم کو 21 ماہ قید کی سزا کے علاوہ تین سال تک زیر نگرانی رکھنے کا کہا ہے.
یہ فیصلہ نیویارک میں امریکی عدالت نے سنایا ہے جنگ مخالف یونیورسٹی سٹوڈنٹ پر الزام تھا کہ اس نے کیمپس میں لوگوں کو کئی دن تک خوفزدہ کیا ہے یہ ہراسگی ایسے وقت میں ہوئی جب ملک کے لیے ایک مشکل وقت تھا. طالب علم کے وکیل نے عدلت کو بتایا کہ حقیقت میں اسرائیل نواز ہی ہے اس نے گمراہ کن معلومات کی وجہ سے نسل کشی اور یہود دشمنی کی حماس کی سوچ کی حمایت کی تھی وہ غلط سمجھ رہا تھا عدالت کے مطابق پیٹرک ڈائی نے ایک ایسے ڈائننگ ہال پر فائرنگ کی دھمکی دی تھی جس میں اسرائیلی طلبہ کھانا کھاتے ہیں نیز کیمپس میں کسی بھی یہودی کو چھری مار کا یا اس کا گلا گھونٹ کر اسے جنگ بندی نہ کرنے کی صورت مار سکتا ہے جس سے خوف پھیل گیا تھا.



  تازہ ترین   
قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ
امریکہ-ایران جنگ بندی ہوگئی، 60 دنوں میں مستقل معاہدے کی امید ہے، وزیراعظم شہباز شریف
آبنائے ہرمز عالمی گزر گاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا کا واضح پیغام
امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کر لی
صدر مملکت کا سفارتکاری، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے پر خواتین کو خراجِ تحسین
منجمد فنڈز سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کوئی لازمی شرط نہیں، ایران
ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کا حصہ نہیں رہا: وزیراعظم
ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر