امریکہ اور یورپی اتحادیوں کا ایران سے اسرائیل پر حملے سے بازرہنے کا مطالبہ

واشنگٹن(نیشنل ٹائمز)امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ممالک نے ایران سے اسرائیل پر حملے سے باز رہنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی کشیدگی مشرق وسطی کو جنگ کی لپیٹ میں لے لگی حماس کے رہمنا اسماعیل ہنیہ کے ایران میں قتل کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے. ایران اور اس کی لبنانی اتحادی حزب اللہ نے تہران میں اسماعیل ہنیہ اور بیروت میں حزب اللہ کے ایک کمانڈر کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم کیا ہے اس دوران ایرانی حملے کو روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور امریکی صدر جو بائیڈن، فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے راہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں تہران کو ایسے کسی بھی حملے سے خبردار کیا ہے.

مغربی راہنماؤں نے کہا ہے کہ ہم نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف فوجی حملے کی اپنی دھمکیوں سے دستبردار ہو جائے اور ہم نے اس طرح کے کسی بھی حملے کی صورت میں علاقائی سلامتی کے لیے سنگین نتائج پر تبادلہ خیال کیاوائٹ ہاؤس نے متنبہ کیا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے رواں ہفتے ہی اسرائیل پر ممکنہ حملہ ہو سکتا اور اس حوالے سے امریکہ اسرائیل کے ساتھ رابطے میں ہے.
اس سفارت کاری کے تحت جرمن چانسلر اولاف شولز اور برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر دونوں نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے کشید گی میں کمی لانے کے لیے فون کیا پیزشکیان نے کہا کہ ان کے ملک کو جارحیت کرنے والوں کو جواب دینے کا حق ہے حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ گذشتہ ماہ نئے ایرانی صدر کی حلف برداری کے لیے تہران میں موجود تھے جب ایک حملے میں وہ مارے گئے تھے جس کا الزام ایران نے اسرائیل پر عائد کیا تھا اسرائیل نے ایک روز قبل بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈر فواد شکر کو بھی قتل کر دیا تھا.
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے کہا کہ ان کا ملک حقیقی وقت میں کسی بھی خطرے کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہے انہوں نے کہا کہ وہ ان اطلاعات سے واقف نہیں ہیں کہ ایران کی جانب سے اگلے 24 گھنٹوں میں حملہ کرنے کی توقع ہے اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ ملک نے دفاع کو مضبوط کیا گیا ہے کیونکہ تہران اور بیروت کی طرف سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ایک بیان کے مطابق عراقی وزیراعظم کے ساتھ ایک فون کال پر امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے ایران سے منسلک ملیشیا کے حملوں سے اتحادی فوجیوں کی حفاظت کے لیے عراق کی ذمہ داری کی اہمیت کا اعادہ کیا.
دوسری جانب واشنگٹن اور چار یورپی ممالک نے غزہ میں بھی فائر بندی کے لیے اپنے مطالبات کو تیز کر دیا ہے یورپی ممالک نے اسرائیل اور حماس کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات کے لیے بائیڈن اور مصر اور قطر کے راہنماؤں کی ثالثی کی حمایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ اب کھونے کے لیے مزید وقت نہیں ہے انہوں نے تباہ شدہ غزہ کے لیے امداد کی بلا روک ٹوک ترسیل پر بھی زور دیا.
غزہ کی پٹی میں لڑائی کے خاتمے اور حماس پر اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے دباؤ اس وقت سامنے آیا جب حماس ایک ونگ نے کہا کہ کچھ واقعات میں ایک اسرائیلی قیدی مارا گیا اور دو کو زخمی ہو گئے حماس کے القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قیدیوں کی حفاظت پر مامور اس کے دو مسلح افراد نے دو الگ واقعات میں ان پر فائرنگ کی تھی جس کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے حماس نے ثالثوں پر زور دیا ہے کہ وہ مزید مذاکرات کرنے کے بجائے بائیڈن کے پیش کردہ فائر بندی کے منصوبے پر عمل درآمد کریں اسرائیل نے امریکہ، قطر اور مصر کی طرف سے مذاکرات کار بھیجنے کی تازہ ترین دعوت قبول کر لی ہے.
اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے کہا ہے کہ ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جائے یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آ رہی ہیں جب ہفتے کے روز ایک سکول پر اسرائیلی فضائی حملے میں 93 جان سے گئے اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے سکول اور مسجد سے باہر سرگرم عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا.



  تازہ ترین   
قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ
امریکہ-ایران جنگ بندی ہوگئی، 60 دنوں میں مستقل معاہدے کی امید ہے، وزیراعظم شہباز شریف
آبنائے ہرمز عالمی گزر گاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا کا واضح پیغام
امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کر لی
صدر مملکت کا سفارتکاری، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے پر خواتین کو خراجِ تحسین
منجمد فنڈز سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کوئی لازمی شرط نہیں، ایران
ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کا حصہ نہیں رہا: وزیراعظم
ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر