کراچی ( نیشنل ٹائمز) ملک میں قومی بچت سکیموں پر شرح منافع میں ڈیڑھ فیصد کمی کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق قومی بچت مرکز کی جانب سے 3 مختلف سکیموں پر نئی شرح کے ریٹ جاری کرتے ہوئے سیونگ اکاؤنٹس پر شرح منافع ڈیڑھ فیصد کم کے 19 فیصد مقرر کی گئی ہے، شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹ پر شرح منافع 134 بیسز پوائنٹس کم کرکے 17 اعشاریہ 90 فیصد مقرر کردی گئی ہے، اسی طرح سروا اسلامک سیونگ اکاؤنٹس پر شرح منافع ڈیڑھ فیصد کمی سے 19 فیصد مقرر کی گئی ہے، تاہم دیگر تمام سکیموں پر شرح منافع برقرار رکھی گئی ہے۔
اس حوالے سے ماہرین نے کہا ہے کہ شرح منافع میں کمی آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود مزید گرنے کا اشارہ ہے، اس سے قبل 29 جولائی کو بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود ایک فیصد کم کی تھی، جس کے نتیجے میں شرح سود 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کے بعد 19 اعشاریہ 5 فیصد پر آگئی۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہوکر 12 اعشاریہ 60 فیصد ہوگئی ہے، مہنگائی میں بتدریج کمی آرہی ہے، ملک کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، مہنگائی کی شرح 23 اعشاریہ 4 فیصد تھی، اگلے سال مہنگائی کی شرح 11 اعشاریہ 5 سے 13 اعشاریہ 5 فیصد رہے گی، مالی سال 2025ء میں جی ڈی پی نمو 2 اعشاریہ 5 سے 3 اعشاریہ 5 فیصد رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ امپورٹ کے بل میں اضافہ ہورہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے، بیرونی سرمایہ کار مالی سال 2024ء میں 2 اعشاریہ 2 ارب ڈالر منافع لے کر گئے، مالی سال 23ء میں بیرونی سرمایہ کار 30 کروڑ ڈالر لے کر گئے تھے، بیرونی ادائیگیوں کے باوجود زرمبادلہ ذخائر بڑھے ہیں۔



