اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پی ایم ایل این کے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد ہونا چاہیے لیکن الیکشن ترمیمی بل منظور ہوکر قانون بن چکا ہے،پی ٹی آئی لاکھ کہے ہمارے امیدوار ہیں، آئین کہتا کہ سنی اتحاد کونسل جوائن کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں پر بالکل عملدرآمد ہونا چاہیے ، فیصلوں کی عزت بھی ہونی چاہیئے، الیکشن ایکٹ ترمیمی بل منظور ہوکر قانون بن چکا ہے، آئین قانون جو کہتا ہے اس میں مزید وضاحت لائے ہیں۔
پارلیمنٹ کے بنائے قانون کی غلط تشریح کی جاتی ہے یا قانون کو ری رائٹ کیا جاتا ہے تو سوال اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں میں کوئی تصادم نہیں ہورہا، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے وضاحت مانگی ہے۔
ججز قانون بنا نہیں سکتے اور قانون سازی نہیں کرسکتے، ججز صرف آئین کی تشریح کرسکتے ہیں، اس آئین کی جو آئین موجود ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے تمام 80حلف نامے بھی کسی فورم پر چیلنج نہیں ہوئے۔
پی ٹی آئی لاکھ کہے کہ امیدوار پی ٹی آئی کے تھے، لیکن آئین قانون کہتا ہے کہ پی ٹی آئی ارکان آزاد تھے اور منتخب ہونے کے بعد سنی اتحاد کونسل جوائن کی، ججز کو تشریح آئین کی کرنی ہے کسی کی منشا پر نہیں چل سکتے۔ پی ٹی آئی رہنماء ، قانون دان سلمان اکرم راجہ نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں کا کیس اور فیصلہ بڑا اہم ہے، جس میں بنیادی سوالات اٹھائے گئے، اب اگر اس کا تفصیلی فیصلہ لکھتے دو چار ماہ لگ جاتے ہیں تو کوئی بڑی بات نہیں، یہ ایک بہت اہم معاملہ ہے، فیصلے کے خلاف نظرثانی 30دنوں میں کی جاسکتی ہے، ستمبر تک چھٹیاں ہیں اس کے بعد فیصلہ آجائے گا، تفصیلی فیصلہ بعد کی بات ہوتی ہے ، جس پر عمل کرنا ہوتا ہے وہ عدالت کا شارٹ آرڈر ہوتاہے کہ یہ کرو۔
اس کے بعد وجوہات دو تین ہفتوں میں آجائیں گی۔ سیاست فیصلے کے تابع ہے، جو فیصلہ دے دیا گیا ہے، شارٹ آردڑ پر اگر عمل نہیں کیا جا ئے گا تو توہین عدالت ہوگی، یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت لگ چکی ہے۔



