سکھر (نیشنل ٹائمز) سکھر حیدرآباد موٹروے منصوبے کی لاگت میں 2 سالوں میں 200 ارب روپے اضافہ ہو گیا، ابتدائی طور پر 175 ارب روپے کے تجویز کردہ منصوبے کی لاگت بڑھتے بڑھتے 500 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی و ترقی میں سکھر حیدر آباد موٹروے کی لاگت میں اضافے کا انکشاف ہوا۔ سینیٹر جام سیف اللہ نے بتایا کہ 2018ء میں سکھر حیدر آباد موٹروے 175 ارب روپے میں بننا تھی، 2022ء میں سکھر حیدرآباد موٹروے کی لاگت 309 ارب ہوگئی، سکھر حیدر آباد موٹروے کی لاگت اب 500 ارب روپے سے بڑھ گئی ہے۔
سیکرٹری منصوبہ بندی نے بتایا کہ سکھر حیدر آباد موٹروے کا ٹھیکہ ایوارڈ کر دیا گیا ہے، سکھر حیدر آباد موٹروے معاہدے کی مدت 25 سال کی ہے، ایم 6 موٹروے نجی شراکت داری سے بنائی جائے گی، ملتان سکھر موٹروے چین اقتصادی راہداری کے تحت بنی تھی۔
سینیٹر جام سیف اللہ نے کہا کہ سکھر حیدرآباد موٹروے کو بھی سی پیک منصوبے کے تحت رکھنا چاہئے تھا، 2017ء میں 175 ارب روپے کا معاہدہ چینی کمپنی کے ساتھ ہی کیا گیا تھا، میں کمیٹی کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتا پچھلی حکومت کی وجہ سے معاہدہ خراب ہوا، جس کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا اس کی کردار کشی کی گئی۔
سیکرٹری منصوبہ بندی نے بتایا کہ ابھی تک چین کی جانب سے سکھر حیدرآباد موٹروے پر کوئی حامی نہیں بھری گئی۔



