اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ آئی پی پیز کے حوالے سے جو بھی ریلیف ممکن ہوا و ہ عوام کو دیا جائیگا ، تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈسکوز کو پاور ڈویژن کے اختیار سے نکال رہے ہیں، وزارت توانائی اس وقت بڑی اصلاحات لا رہی ہے۔قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرتوانائی کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت آئی پی پیز کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
ہم اس ریفارم پر جا رہے ہیں کہ آئندہ حکومت بجلی نہیں خریدے گی۔جو پلانٹ بجلی تیار کرے گا وہ انرجی ایکسچینج کے ذریعے اگلے خریدار کو خود ہی فروخت کرے گا۔ اس ایکسچینج کو آپریشنل کرنا ہمارے ریفارم کا حصہ ہے۔ وزارت توانائی کو اس وقت بجلی کی مہنگی قیمتوں کا مسئلہ درپیش ہے۔
اگلے سال ڈسکوز کی نجکاری کیلئے اشتہار جاری کیا جائے گا۔ اگلے 2 سے 3 ماہ کے دوران ہمارے فنانشل ایڈوائزر مارکیٹ کپیسٹی کا تعین کریں گے۔
اسلام آباد، گوجرانوالہ، فیصل آباد، لاہور اور ملتان کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو پرائیویٹائز کرنے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا مزید کہنا تھا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو وزارت کے دائرہ اختیار سے باہر نکالنا بڑی اصلاحات میں شامل ہے۔ این ٹی ڈی سی کے اندر بڑی اصلاحات کر رہے ہیں۔ این ٹی ڈی سی کے اندر ری اسٹرکچرنگ کی جا رہی ہے۔
این ٹی ڈی سی کے اندر پلاننگ اور ڈویلپمنٹ کے کام کو 3 مختلف کمپنیوں میں ری اسٹرکچر کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ پی پی ایم سی کے اندر اصلاحات کے ذریعے وزارت توانائی میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ ہیٹ ریٹ آڈٹ رپورٹ کو اس وقت کی کابینہ کی ثالثی نے نقصان پہنچایا۔ ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کر رہے۔ پی ٹی آئی دور حکومت میں محمد علی کی رپورٹ میں مصنف نے آئی پی پیز کا آڈٹ کرنے کا کہا تھا۔
تحریک انصاف کی حکومت نے تحقیقات کرنے کے بجائے آئی پی پیز پر ثالثی کے عمل میں ڈال کر التوا کا شکار کیاجس کا خمیازہ عوام کو آج بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگر نامکمل رپورٹ پر ثالثی ہوتی تو آئی پی پیز کو کلین چٹ مل جانی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2015ءسے 2018ءکے درمیان بیرونی سرمائے اور قرضوں سے پاور پلانٹس لگائے گئے۔ اس وقت کی حکومتوں نے دنیا کے کئی ممالک سے کہا کہ آپ پاور پلانٹس لگائیں۔
اس وقت امریکی ڈالر کا ریٹ 100 روپے تھا، چین نے ان پاور پلانٹس میں سرمایہ کاری کی۔ تقریباً 8 ارب ڈالر قرض لے کر یہ پاور پلانٹس لگائے گئے۔نندی پور اور گڈو پاور کا بوائلر خراب ہے تو اسے ٹھیک تک نہیں کرایا جاتا۔ نندی پور اور گڈو پاور کو فروخت کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے فقدان کے باعث ہمارے پاس رئیل ٹائم ڈیٹا نہیں ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ایڈوانس میٹرنگ کے باعث قابل اعتماد ڈیٹا آسکے گا۔ قابل اعتماد ڈیٹا کے حصول کیلئے نیٹ میٹرنگ ضروری ہے۔



