اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ترمیمی بل بدنیتی پر مبنی اور سپریم کورٹ پر براہ راست حملہ ہے، آپ صاف کہہ دیں کہ پی ٹی آئی کے مینڈیٹ اور آئین قانون کو نہیں مانتے، ہر طریقہ استعمال کیا جارہا ہے کہ عوامی فیصلے کو تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر طریقہ استعمال کیا جارہا ہے کہ عوامی فیصلے کو تبدیل کیا جائے، جو بری طرح ہارے وہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں، یہ فارم 47 پر پارلیمنٹ میں آئے ہیں، یہ بل بدنیتی پر مبنی ہے، سپریم کورٹ کے اکثریتی جج نے فیصلہ دیا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے نام سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کی بھیک مانگ رہے ہیں۔
یہ بل سپریم کورٹ پر براہ راست حملہ ہے، وزیرقانون صاحب آپ قانون کے رکھوالے ہیں، آپ ایسی قانون سازی کریں گے تو ملکی تاریخ میں شرمندہ ہوں گے، آپ صاف کہہ دیں کہ پی ٹی آئی کے مینڈیٹ اور آئین قانون کو نہیں مانتے، کیا ایسا ہوسکتا ہے جس کی ایک سیٹ ہو اس کو تین سیٹیں مل جائیں؟2018کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو اکثریت سے محروم کیا گیا ، آرٹی ایس بٹھایا گیا۔
یاد رہے قومی اسمبلی میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں الیکشن ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کا بل منظوری کے لیے پیش کیا گیا، حکمران اتحاد نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024ء کثرت رائے سے قومی اسمبلی سے منظور کرلیا ہے، مسلم لیگ ن کے رہنماء بلال اظہر کیانی نے بل ایوان میں پیش کیا، اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی کی گئی۔
بتایا جارہا ہے کہ حکومت الیکشن ایکٹ میں یہ ترمیمی بل مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد لائی ہے جس میں سپریم کورٹ نے نا صرف پاکستان تحریک انصاف کو نہ صرف پارلیمانی پارٹی بلکہ مخصوص نشستوں کا بھی حقدار قرار دیا، قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب یہ بِل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور وہاں سے منظوری کے بعد صدر پاکستان اس پر دستخط کر کے اس بِل کو قانون میں تبدیل کر دیں گے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ الیکشن ایکٹ میں یہ ترمیم ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ سامنے آ چکا ہے، اس لیے ایسے میں پی ٹی آئی کی جانب سے اس ترمیم پر تنقید کی جارہی ہے، پی ٹی آئی نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں کے حصول کے دروازے بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے، پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی قانون سازی مستقبل کے لیے ہوتی ہے جب کہ اس ترمیم کے تحت اس کا اطلاق ماضی سے ہوگا جو کسی بھی طور پر آئینی نہیں ہے، حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے سپریم کورٹ پر حملہ کر رہی ہے اوران کی جماعت اس قانون سازی کے خلاف سپریم کورٹ میں جائے گی۔



