اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے وفاقی حکومت کو مخصوص نشستوں کے معاملے میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ دے دیا۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا سپریم کورٹ کا فیصلہ اکثریتی ہے، آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا پڑتا ہے، الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں چلا گیا ہے تو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں، یہ سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن اور سنی اتحاد کونسل کا معاملہ ہے، وہ اپنا فیصلہ کرتے رہیں لیکن وفاقی حکومت کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے، اب ساری ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔
کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف یا سنی اتحاد کونسل کو یہ بڑا ریلیف ملا ہے اب ان کا یہ فرض بنتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے اپنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں، جس کے بعد الیکشن کمیشن طے شدہ طریقہ کار کے تحت ان کاغذات کی جانچ پڑتال کرے گا لیکن اگر انہوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا تو یہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق عدالتی فیصلہ آئین کے آرٹیکلز سے باہر جا کر لکھا گیا، یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ اپنے اختلافی نوٹ میں سپریم کورٹ کے 2 جج یہ کہہ رہے ہیں کہ آرٹیکل 175 اور 155 میں جو دائرہ کار تفویض کیا گیا ہے، اس سے باہر جاکر اکثریت نے فیصلہ دیا ہے اور نا صرف یہ انہوں نے آرٹیکل 51، 63، 106 کی بات کی ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے آئین کے ان آرٹیکلز کو معطل کرنا پڑے گا اور حقیقت بھی یہی ہے، یعنی وہ لوگ جو سنی اتحاد کے ممبر ہیں وہ کہہ ہی نہیں رہے کہ ہم نے پارٹی تبدیل کرنی ہے، تو کیا وہ فلور کراسنگ ہوگی کہ وہ ایوان میں سنی اتحاد سے اٹھ کے پی ٹی آئی کی صفوں میں بیٹھیں گے، تو کیا یہ 62 ون ایف اور 63 کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟۔



