اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) عوام پاکستان پارٹی کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیرخزانہ مفتا ح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت بجلی بلوں میں ٹیکسز ختم کرکے گھریلو صارفین کو فوری ریلیف دے سکتی ہے، آئی ایم ایف کو سمجھایا جائے گا تو وہ بات مان جائیں گے، حکومت خسارہ پورا کرنے کیلئے آئی پی پیز سے بات کرے اوربجلی کے نادہندگان سے ریکوری بھی کرنی چاہیئے۔
انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ پی ٹی آئی دور میں بات ہوئی تھی، ایک مرتبہ پھر بات کی جاسکتی ہے، بجلی کے بلوں میں ٹیکسز کم کرکے عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے، حکومت کو چاہیئے بل میں چار قسم کا ٹیکس ختم کردے،ساڑھے 400 ارب کا خسارہ ہوگا، آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ خسارہ نہیں ہونا چاہیئے، لیکن وفاقی حکومت کو صرف 185 ارب روپے کا خسارہ ہوگا جو کہ پی ایس ڈی پی کے 1100 ارب فنڈ میں سے پورا کرسکتی ہے، اس طرح آئی ایم ایف کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا، بجلی بلوں میں ٹیکسز میں کمی لانے کیلئے آئی ایم ایف سے بات کی جاسکتی ہے، گھریلو صارفین کیلئے تو ٹیکسز کو فوری کم کیا جاسکتا ہے۔
سندھ میں ہوا سے بجلی بنتی ہے لیکن اس کو لینے کیلئے کیبل نہیں ہیں، اگر کیبل لگ جائے تو مفت بجلی حاصل ہوسکتی ہے، اس وقت سند ھ میں سستی اور پنجاب میں مہنگی بجلی بن رہی ہے، فرنس آئل سے بالکل بجلی نہیں بنانی چاہیئے۔بجلی کے بل کم ہوں گے تو آئندہ ماہ بجلی کھپت بھی بڑھ سکتی ہے، بجلی کی کھپت بڑھے گی تو کیپسٹی چارجز میں کمی ہوگی، حکومت کو نادہندگان سے ریکوری بھی کرنی چاہیئے، اس سے بھی 50 سے 100ارب جمع ہوسکتے ہیں۔پرائمری خسارہ جی ڈی پی کا 1فیصد مثبت ہونا چاہئے، وہ رکھ رہے ہیں ، آئی ایم ایف کو سمجھایا جائے گا تو وہ بات مان جائیں گے۔



