اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے خومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسیران رہا نہ کیے گئے تو دھرنے کا رخ کسی اور طرف موڑ سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی میں شریک کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ روز دھرنے میں مارا ماری کی اور رکاوٹیں کھڑی کیں، اس کے باوجود ڈی چوک پہنچنا جماعت اسلامی کے لیے کوئی مسلہ نہیں، ہم چاہتے تو ڈی چوک جا سکتے تھے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا تھا، جس دن چاہیں گے ڈی چوک پہنچ جائیں گے، ایسا نہ سوچیں کہ صرف مری روڈ پر جماعت اسلامی دھرنا دے گی، جماعت اسلامی کے مطالبات جائز ہیں، جماعت اسلامی کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو دھرنا لیاقت باغ پر نہیں رہے گا، پورے ملک میں پھیلے گا، لوگوں نے مجھ سے امید لگالی ہے میں ان کی امیدیں نہیں توڑ سکتا، کل مری روڈ پر تاریخی جلسہ ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے مطالبات پڑھ کر سنا دیتی ہے، حکومت سے بات چیت چل رہی ہے، جس میں جماعت اسلامی کی نمایندگی لیاقت بلوچ کر رہےہیں، حکومتی کمیٹی پر تحفظات ہیں، راستہ حکومت نکالتی ہے تو بات چیت کریں گے، اس سلسلے میں جماعت اسلامی کا مشاورت کا عمل جاری ہے، ہم پر امن لوگ ہیں، حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، حکومت سے مذاکرات صرف ٹالنے کے لیے نہیں ہوں گے، عوام کو ریلیف دیں، جماعت اسلامی دھرنے سے جڑی امیدوں کو نہیں توڑ سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اگر سنجیدہ ہے تو اسے ریلف دینا ہوگا اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے، جائز ٹیکس ہوگا تو تاجران و صنعتکار قبول کریں گے، جن آئی پی پیز کے معائدے باقی ہیں ان سے بات کریں، آئی پی پیز کی جعلسازی کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، غریب تو پریشان ہے، متوسط اور غریب کہاں جائے، ہم 25 کروڑ عوام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، پورے پاکستان کے لوگوں کو اس مقدس فریضہ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے، پیر کے روز جماعت اسلامی کی خواتین کارکنان کا جلسہ ہوگا، اتوار کو نماز مغرب کے بعد جماعت اسلامی مری روڈ پر جلسہ کرے گی۔



