اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءتار ڑ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے حوالے سے چند لوگ غیرضروری باتیں کررہے ہیں، طالبان کو واپس لانے والے کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے،جیسی باتیں ہورہی ہیں ایسا کوئی آپریشن نہیں ہورہا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جلسوں میں عجیب بیان دیتے ہیں اور اجلاسوں میں شریک ہو کر کچھ کہتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پورکے بیانات میں تضاد ہوتا ہے ۔ان کے بیانات تضادات کا مجموعہ ہیں۔ہم ان پوچھتے ہیں کہ آپ کے پاس پلان کیا ہے؟ اینٹی ٹیررازم کیلئے آپ کیا کررہے ہیں؟ ۔ملک میںامن وامان کی صورتحال اور اداروں کو ہروقت نشانہ بنایا جارہا ہے۔
قیام امن کیلئے حکومتی رٹ قائم کرنا ہوگی۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ جماعت اسلامی کو لیاقت باغ میں جلسہ یا دھرنا کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور اس کے ایس او پیز طے ہوئے تھے ۔ہم ملک کی بقا کیلئے بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا تھا کہ خیبرپختونخواہ میں آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔
ہم اپنے فیصلے خود کریں گے کوئی اور نہیں کرے گا۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی وجہ سے ہم نے گھربارچھوڑا ہمارے نام پر ڈالر لیکر کھائے گئے جس پر ہمیں تحفظات ہیں۔ ہمارے آباواجداد نے ہمیں قربانیاں دینا سکھائیں۔بنوں میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا مزید کہنا تھا کہ شرپسندوں کےخلاف کارروائی ہماری پولیس کرے گی۔
کوئی بھی مسلح گروہ مجھے پختونخواہ میں نظرنہ آئے۔ پولیس اپنا کام کرے عوام تمہارے ساتھ ہیں۔ یہ میرے عوام ہیں ان کی عزت میری عزت ہے۔ کرپشن کرنےوالے اور منشیات فروش کو نہیں چھوڑیں گے۔ پولیس دہشت گردوں کےخلاف ڈٹ کرکارروائیاں جاری رکھے۔ اپنی اصلاح کر لو جو اصلاح نہیں کرے گا سزا کےلئے تیاررہے۔علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ بنوں میں افسوس ناک واقعہ ہو۔ بنوں کے لوگوں نے تعاون کرکے مزید نقصان سے بچایا۔ اس ملک کیلئے خون دیں گے مگر اپنے فیصلے خود کریں گے۔ ہمارے اندر اور باہر ایسے عناصر موجود ہیں جو حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ مدارس کے بچے ہمارے بہت قریب ہے۔ جیسا بنوں کے عوام چاہیں گے بالکل ویسا ہی کریں گے۔



