اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز ) عدالت نے سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی رؤف حسن سمیت شریک 9 ملزمان کا مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن سمیت دیگر ملزمان کو پیش کیا گیا جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شبیر بھٹی نے سماعت کی، دوران سماعت ایف آئی اے کی جانب سے رؤف حسن سمیت دیگر ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، اس حوالے سے ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ ’سوشل میڈیا اکاؤنٹ ابھی تک ریکور نہیں ہوئے جی میل لاگ ان کرنا ہے، پیڈ لوگ واٹس ایپ گروپ چلا رہے ہیں، بیرون ملک سے لوگ شامل ہیں، ملزمان کے موبائل سے فیک اکاؤنٹس ملے ہیں‘۔
پی ٹی آئی وکیل علی بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ ’چپڑاسی، ریسیپشن پر بیٹھے شخص یا سکیورٹی گارڈ سے کیا برآمد کرنا ہے جو انہیں بھی ساتھ بٹھایاگیا ہے، بندے کو رکھ کر کیا کرنا ہے کیون کہ موبائل فون تو پہلے ہی ان کے پاس ہیں، بندے کا لیبارٹری ٹیسٹ کروانا ہے تو بلڈ سیمپل لے جائیں بندہ کیوں چاہیئے؟‘، اس پر سپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ’کہا گیا سرچ وارنٹ نہیں تھے قانون اس معاملے میں نرمی ظاہر کرتا ہے، اگر ملزم کے بھاگ جانے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کے بغیر بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے، ریمانڈ کا مقصد صرف ریکوری نہیں بلکہ تحقیق کے لیے بھی ریمانڈ لیا جا سکتا ہے، ہم یہ نہیں کہتے ہم انہیں سزا دلانا چاہتے ہیں ہم کہتے ہیں تحقیقات ہوں‘۔
وکیل پی ٹی آئی سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’رؤف حسن نے ملک کو 75 سال دئیے ہیں کینسر کے مریض ہیں، رؤف حسن پر قاتلانہ حملہ ہوا کیا اس میں کسی کو گرفتار کیا گیا؟ حملہ آور کوئی اور تھے کپڑے کسی کے پہن رکھے تھے، پہلے بھی پی ٹی آئی سیکریٹریٹ کو سیل کیا گیا ایسے حملہ کیا گیا جیسے بھارتی فوج نے کسی کشمیری کو پکڑا ہے، میرا حق ہے حکومت پر تنقید کرنا آپ کے ڈالے گئے ڈاکے پر بات کرنا، جب نواز شریف آتا ہے تو ہم کہتے ہیں یاسمین راشد کا چور آ گیا، خواجہ آصف کو کہتے ہیں ریحانہ ڈار سے ہارا ہوا آ گیا، پھر تو ہمیں بھی گرفتار کریں، لگائے گئے تمام سیکشنز قابل عمل نہیں ہیں کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا، لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں ملزمان کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم جلوس نکالتے ہیں ہم پر دہشتگردی ایکٹ لگ جاتا ہے عدالت نے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، اس حکومت کا کیا معیار ہے یہ تو فارم 47 کی حکومت ہے اس کے خلاف کیا پروپیگنڈا کرنا ہے؟، حکومت کو تو خطرہ ہے کہیں حقائق سامنے نہ آ جائیں یہ تو پوری دنیا کہہ رہی ہے، عوام کو کیڑا مکوڑا سمجھا جا رہا ہے اس سے تو بہتر خاکی کیپ والا تھا، ضیاء الحق کی پھیلائی ہوئی نفرت آج بھی بھگت رہے ہیں لوگ آج پاکستانی نہیں پنجابی سندھی پشتون ہیں‘۔



