اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ آئی پی پیز معاہدوں بارے پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے ردوبدل ہو سکتا ہے،پن بجلی کے دو منصوبوں کو 2027میں مکمل کر کے بجلی مسائل سے جان چھڑانا ہے،طے کرلیا کہ بیرونی ایندھن سے بجلی نہیں بنائیں گے،اب آئی پی پی کے لائسنس ری نیو نہیں ہوں گے،ماضی میں آئی پی پیز سے دوبارہ بات چیت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی ہوئی،اس کیس میں کچھ عالمی فنڈنگ کے آئی پی پیز ہیں،پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ان کے وزیر نے ایک آئی پی پی کے مالک کے لائسنس کو ری نیو کرالیا۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ آئی پی پیز معاہدوں بارے پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے ردوبدل ہو سکتا ہے،سردیوں میں پاکستان میں بجلی کی کھپت تقریباً 12ہزار میگاواٹ تک آ جاتی ہے،گرمیوں میں 12سے 14گھنٹے لوڈشیڈنگ سے بچنے کیلئے کپیسٹی پے منٹ کی جاتی ہے،پچھلے کچھ سالوں میں آئی پی پیز کے معاہدوں میں ردوبدل کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں 60فیصد لوڈشیڈنگ سے بچنے کیلئے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے،ماضی میں آئی پی پیز سے دوبارہ بات چیت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی ہوئی،اس کیس میں کچھ عالمی فنڈنگ کے آئی پی پیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو ریکوڈک اور کار کے کے کیسز میں اربوں ڈالرز کے دھچکے لگ چکے ہیں،حکومت آئی پی پیز سے متعلق اقدامات سوچ سمجھ کر کرنا چاہتی ہے،اس صورتحال سے نکلنے کیلئے آئی پی پیز ریفارمز ایکٹ بنانا پڑے گا،ہمیں چاہیے ہمیں تسلسل کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے،ہم نے طے کرلیا ہے کہ باہر کے ایندھن سے بجلی نہیں بنائیں گے،اب آئی پی پیز کے لائسنس ری نیو ہونے والے ہیں ہم ان کے لائسنس ری نیو کریں گے،پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ان کے وزیر نے ایک آئی پی پی کے مالک کے لائسنس کو ری نیو کرالیا،اب آئی پی پی کے لائسنس ری نیو نہیں ہوں گے، بیرونی ایندھن سے بجلی نہیں بنائیں گے،پن بجلی کے دو منصوبوں کو 2027میں مکمل کر کے بجلی مسائل سے جان چھڑانا ہے۔
آئی پی پیز معاہدوں بارے پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے ردوبدل ہو سکتا ہے، (ن)لیگی رہنما خرم دستگیر



