اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) اپوزیشن تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہم کسی کو برا بھلا کہنے نکلے ہیں نہ اداروں پر تنقید کیلئے نکلے ہیں ، اتحاد اس لیے نہیں بنا کہ کسی سے حکومت چھینی جائے بلکہ اس لیے بنا ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی ہو، زر اور زور سے آئی حکومت کو نکالنے کے 2 راستے ہیں،وہ راستہ اختیار کر رہے ہیں جس سے بدامنی نہ ہو۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں پی ٹی آئی کے بھوک ہڑتالی کیمپ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے مزید کہا کہ پاکستان ہماری کوتاہی کی وجہ سے بحرانوں میں مبتلا ہے، اتحاد اس لئے بنا کہ حکومت چھینی جائے، اور آئین و قوم کی بالادستی ہو۔انہوں نے کہا کہ اتحاد اس لیے بنا ہے کہ مینڈیٹ رکھنے والوں کو حکومت دی جائے اور پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو۔ ۔محمود اچکزئی نے کہا کہ پاکستان انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لیے ہم نے نرم راستہ اپنایا ہے، ہم اس لیے نکلیں ہیں کہ پاکستانیوں کو ان کے حقوق دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ جمہوری راستہ اپنا کر سیاسی جدوجہد کریں گے اور آئین کے مطابق چلیں گے، ہم نے مطالبات رکھ دیے ہیں کسی نے نہ مانے تو پھر ہم سے گلہ نہ ہوگا۔محمود اچکزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت مقبول ترین لیڈر ہیں، بانی پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے جدوجہد کریں گے، پوری قوم سے اپیل ہے اس کار خیر میں بھرپور شرکت کریں، عوام ہمیں مشورہ دیں، راستہ دکھائیں کہ ہم کیا کریں۔ اس موقع پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آزادعدلیہ کیلئے آخری دم تک ساتھ کھڑے ہیں، حکمران عدالتی فیصلے کے بعد پاگل ہوگئے ہیں، ہم سے مخصوص نشستیں نہیں چھینی جاسکتیں، فارم 47 کی حکومت کو ہم نہیں مانتے، وزیراعلی پنجاب نیعدلیہ کو دھمکیاں دیں، اس پر توہین عدالت کی درخواست دیں گے ۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا یہ عوام کی جماعت ہے، پابندی ان پر لگنی چاہیے جن کے اسٹیٹمنٹ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان مخالف استعمال ہوئے۔
ہم کسی کو برا بھلا کہنے نکلے ہیں نہ اداروں پر تنقید کیلئے نکلے ہیں، محمود اچکزئی



