اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے پارلیمنٹ ہائو س کے باہر علامتی بھوک ہڑتال کیمپ لگاتے ہوئے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر اس کا دائرہ کار وسیع کرنے کا اعلان کردیا جبکہ کو آئندہ جمعہ کو جمعے کو پرامن احتجا ج کی کال دیدی گئی ہے ۔تفصیل کے مطابق پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ کا بھوک ہڑتالی کیمپ منگل کو پارلیمنٹ ہائو س کے سامنے دوپہر تین سے شام سات بجے تک جاری رہا، بھوک ہڑتالی کیمپ کی قیادت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کی۔علامتی بھوک ہڑتال کیمپ میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، شبلی فراز شریک ہوئے، شیخ وقاص اکرم، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما بھی شریک ہوئے، پی ٹی آئی کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے پر بھوک ہڑتال کا دائرہ کار وسیع کردیا جائے گا۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے ر عمر ایوب ، بیرسٹر گوہر خان ، اسد قیصر کے ہمراہ بھوک ہڑتالی کیمپ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھوک ہڑتالی کیمپ کا مقصد بیرونی دنیا کو بتانا چاہتے کہ دو سال سے فسطائیت کا دورہے، عمران خان اور بشری بی بی کو سیاسی کیسز کی بنیاد پر قید میں رکھا ہوا ہے،یہ ہمیں ڈیجیٹل دہشتگرد کہہ رہے جبکہ عوام سے ہمیں 8فروری کو محبت کا مینڈیٹ ملا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی علامتی بھوک ہڑتال پی ٹی آئی کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں پی ٹی آئی نے آئین قانون کے اندر رہتے ہوئے ساری سیاسی جدوجہد کی ہے۔ علامتی بھوک ہڑتال جاری رہے گی اور ملک کے سارے حصوں میں پھیلے گی، ہر صوبائی اسمبلی میں پھیلے گی، ہم بیرونی دنیا کو بتانا چاہتے کہ ملک میں دو سال سے فسطائیت کا دور ہے، اس میں ہمارے عمران خان اور بشری بی بی کو سیاسی کیسز کی بنیاد پر قید میں رکھا ہوا ہے، ان کی رہائی اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی، یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک بیساکھیوں پر کھڑی حکومت اور نااہل ٹولہ جس کے دفاع کیلئے ڈی جی آئی ایس پی آر کو آنا پڑتا ہے، ایسی حکومت گھمبیر مسائل اور عوام کو مہنگائی میں جھونک دیا گیا، بجلی کے بل تازہ ترین مثال ہے، پاکستان کے عوام کا خون چوسا جارہا ہے، فسطائیت نے ملک کو وہاں لاکر کھڑا کیا جہاں ترقی اور امن ممکن نہیں، بے روزگاری بڑھے گی اور امن وامان کی صورتحال خراب ہوتی جائے گی، جمعے کو پرامن احتجا کی کال دی ہے۔یہ ہمیں ڈیجیٹل دہشتگرد کہہ رہے جبکہ عوام سے ہمیں 8فروری کو محبت کا مینڈیٹ ملا۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ ملک میں افراط زر کی لہر جاری ہے، مہنگائی کی لہر اس شدت کی ہے کہ محنت کش کا جینا مشکل ہوچکا ہے، ہم چاہتے ہیں ملک میں امن ہونا چاہیئے، ہمارا بھوک ہڑتالی کیمپ اس کے خلاف ہے، اس کا حصول اس وقت ہوگا جب تک شہبازشریف کی فارم 47کی حکومت مستعفی ہوکر آزادانہ انتخابات نہیں کراتے، تحریک تحفظ آئین پاکستان کی پلیٹ فارم پر بھی تمام جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت مستعفی ہوجائے، ملک میں آزادانہ منصفانہ انتخابات ہوں، پاکستان کو اس بحران سے نکالا جائے۔عمر ایوب نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ترجمان پاک فوج کی نہیں تھی بلکہ وزیرداخلہ اور وزیراطلاعات کی ترجمانی کی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے خود ہی اپنے آپ کو وفاقی وزیرکے طور پر پروموٹ کرلیا، پریس کانفرنس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ وہ فارم 47کی حکومت کو سہارا دینا چاہ رہے ہیں، شہبازشریف اور مریم نواز کی حکومتی کشتی میں اتنا پانی آچکا کہ ڈوبنے سے بچانا ناممکن ہوچکا ہے،عوامی عدالت میں بالکل ڈس کریڈٹ ہوچکے ہیں۔ پاکستان کو ایک مضبوط حکومت چاہیئے عمران خان وزیراعظم ہوں گے تو پھر دیکھنا پاکستان کیسے ترقی کرتا ہے۔ بھوک ہڑتالی کیمپ کا دائرہ کار دیگر اسمبلیوں تک بڑھائیں گے، بھوک ہڑتالی کیمپس ڈویژنز تک لیکر جائیں گے، بانی پی ٹی آئی کی کاز کو بھولنے نہیں دیں گے۔شبلی فراز نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا لیکن وہاں بھی کیمپ لگائیں گے، کیمپ کا مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، یہ ہمیں ڈیجیٹل دہشتگرد کہہ رہے ہیں ہمیں پاکستان سے محبت کا مینڈیٹ 8 فروری کو ملا، ہارنے والوں کو ایوان میں بٹھایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ورکرز کی رہائی کے لئے علامتی احتجاج ہے، ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اسد قیصر نے کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ مریم نواز کی دھمکیوں پر توہین عدالت کی کارروائی کرے، مریم نواز سمجھتی ہے پاکستان میں ان کی بادشاہت ہے قوم کو غلام سمجھتی ہیں۔اسد قیصر نے کہا کہ کس قانون کے تحت پی ٹی آئی سیکریٹریٹ پرحملہ کیا گیا، ہمارے سیکریٹری اطلاعات اور رہنماں کو کس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا۔ یغام دیا گیا کہ پاکستان میں کوئی آئین و قانون نہیں ہے، تاثر دیا جارہا ہے کہ ملک میں طاقتور ہی آئین اور قانون ہے، یہ سمجھتے ہیں ان کی دھمکیوں اور بدمعاشی سے کوئی ڈر جائیگا، ہم جذباتی لوگ نہیں، آئین و قانون کے مطابق ہی چلیں گے۔اسد قیصر نے کہا کہ ٹیکسز اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز کی قیمت بڑھ جائے گی، موجودہ حکومت کے پاس جعلی مینڈیٹ ہے۔تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوئی قانونی پوزیشن نہیں فوری ملک میں الیکشن کرائے جائیں، یہ لوگ بنوں کے واقعات بھی ہمارے گلے میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔اسد قیصر نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ بنوں میں کیا ہورہا تھا اور کون کررہا تھا، بنوں واقعے کے بعد ایک ماحول بنادیا گیا ہے جیسے پی ٹی آئی سب کرارہی تھی۔انھوں نے کہا کہ پورا پاکستان جانتا ہے کہ بنوں میں کس نے کیا کرایا، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے پرامن جدوجہدجاری رہے گی۔
پی ٹی آئی کا مطالبات تسلیم نہ ہونے پر بھوک ہڑتالی کیمپ کا دائرہ کار وسیع کرنے کا اعلان، کو آئندہ جمعہ کو جمعے کو پرامن احتجا ج کی کال



