کراچی (نیشنل ٹائمز) ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمامصطفی کمال نے کہا ہے کہ آئی پی پیزکیساتھ معاہدے اورپاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے،معاہدوں کوازسرنو ری وزٹ نہ کیا گیا تو ملک نہیں چلے گا،آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے باعث ملکی معیشت اورترقی زمیں بوس ہوچکی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ ہم دھونس ،دھمکی یا حکومت چھوڑنے کی باتیں کرکے پوائنٹ اسکورنگ نہیں چاہتے ۔ ہم صرف اور صرف معاملے کا حل چاہتے ہیں اوراس کا حل نکال کر رہیں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف سے ایم کیو ایم وفدجلد ملاقات کرنے جارہاہے جس میں آئی پی پیز معاہدوں کے نقصانات ، تمام شواہد اور اپنا پرپوزل رکھیں گے۔انہوں نے کہاکہ آئی پی پیزکیساتھ معاہدے ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔ انہوں ن یکہا عوام سڑکوں پر ہیں۔60 روپے یونٹ بجلی خرید سکتے ہیں نہ بل دے سکتے ہیں۔ مصطفی کمال نے مزید کہا کہ رواں سال بھی کیپیسٹی چارجز مد میں 1700ارب مزیدرکھے گئے ہیں۔ بجلی تو ہم آئی پی پیزسے نہیں لے رہے لیکن بجلی نہ لینے کے پیسے ڈالرز میں دے رہے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کو ون پوائنٹ ایجنڈے پرچین جاناچاہیے اور وہاں جا کرچینی حکومت سے بات کریں اور بتائیں ہم سے غلطی ہوگئی۔وزیراعظم انہیں بتائیں پاکستان اب ان معاہدوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔ کمپنیوں نے جوپیسے بٹورنے تھے بٹور لئے اب مزیدنہیں چل سکتے۔ آئی پی پیزسے معاہدوں کوفوری ری اسٹرکچرکرنے کی ضرورت ہے۔ان معاہدوں کے باعث ملکی معیشت اورترقی زمیں بوس ہوچکی ہے۔آئی پی پیزمعاہدوں سے ملک مزیدتباہ ہوجائے گا۔ 50 فیصد حکومتی اور 20 فیصد لوکل آئی پی پیز کے ساتھ چارجز شق کو ختم کرنا ہوگا۔یہ معاہدے ن لیگ اورپیپلزپارٹی کے دورمیں ہوئے لیکن اس وقت ہم گڑھے مردے نہیں اکھاڑناچاہتا۔آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہد پردیگرجماعتیں بھی پارلیمان میں ساتھ دیں تومشترکہ قراردادلائی جاسکتی ہے۔
آئی پی پیز کیساتھ معاہدے اورپاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے، مصطفی کمال



