اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان مسلم لیگ نواز کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے. پیپلزپارٹی نے آج منگل کے روز فاروق ایچ نائیک کے توسط سے نظرثانی کی درخواست جمع کرائی ہے جس میں سپریم کورٹ کے مختصر حکم کو معطل کرنے کا استدعا کی گئی ہے واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) پہلے ہی گزشتہ ہفتے مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کر چکی ہے. 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی پی ٹی آئی کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کے لیے اہل قرار دیتے ہوئے پارٹی سے پندرہ روز میں امیدواروں کی فہرست جمع کرانے کا کہا تھا سپریم کورٹ کے 13 رکنی فل کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے سابقہ حکم کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا. سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) نے مطالبہ کیا تھا کہ خواتین اور اقلیتوں کی 77 نشستیں جو اصل میں وزیراعظم شہباز شریف کے حکمران اتحاد کو دی گئی تھیں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ جماعت کو دوبارہ مختص کی جائیں. عدالت کے فیصلے کے بعد حکمران اتحاد کے پاس اب بھی 336 رکنی ایوان زیریں میں 200 سے زیادہ ارکان ہیںفیصلے سے قبل تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اراکین کی تعداد 84 تھی اور اب ان کی تعداد 100 سے زیادہ ہونے کی توقع ہے. وفاقی حکومت نے فیصلے پر ردعمل میں اعلان کیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی پر پابندی کے لیے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کرے گی. حکومتی ترجمان وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاتھا کہ تحریک انصاف اور پاکستان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے انہوں نے کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ کیس 9 مئی کے ہنگامے اور سائفر ایپی سوڈ کے ساتھ ساتھ امریکہ میں منظور ہونے والی قرارداد کے پیش نظر ہم سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے بہت مضبوط شواہد موجود ہیں. ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت عمران خان اور سابق صدر عارف علوی کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے ریفرنس بھی دائر کرے گی عطا تارڑ نے کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت ریفرنس کابینہ کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کو بھیجا جائے گا.
مسلم لیگ نواز کے بعد پیپلز پارٹی نے بھی مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کر دی



