اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہاہے کہ جو شخص ملک اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف بات کرتا ہے ہم اس کے خلاف ہیں،بنوں اور مردان میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ امن مارچ کیلئے آئے تھے، کیا وہ دہشت گرد تھے،ہائی سیکیورٹی میٹنگ کے بعد وزیر دفاع کو چاہیے تھا کہ وہ قوم کو پالیسی سے متعلق بتاتے،حکومت کی کمزوری اور نان پروفیشنلزم کی وجہ سے معاملات غلط چل رہے ہیں،،ڈیجیٹل میڈیا سے کونسی دہشت گردی ہوئی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا، آپ سیاسی جماعتوں کے دفاتر کے بجائے دہشت گردوں کے اڈوں پر چھاپے ماریں،رئوف حسن الیکٹرانک میڈیا کو ڈیل کرتے ہیں ڈیجیٹل میڈیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہو ئے علی محمد خان نے کہا کہ میں اس وقت اڈیالہ جیل میں تھا، میڈیا پر دیکھا کہ میڈیا سنٹر پر چھاپہ پڑا ہے،بانی پی ٹی آئی نے اس کاروائی پر افسوس کا اظہار کیا، یہاں پر آئین کی پاسداری نہیں ،بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی،آخر کیا ایسی بات ہوئی کہ ایسی کاروائی کی گئی،ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے بات ہوئی ہے ہمیں ابھی تک کوئی سمجھ نہیں آرہی،رئوف حسن الیکٹرانک میڈیا کو ڈیل کرتے ہیں ڈیجیٹل میڈیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں،ڈیجیٹل میڈیا سے کونسی دہشت گردی ہوئی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا، سوشل میڈیا پر پارٹی کے حوالے سے آگاہ رکھا جاتا ہے،کسی پارٹی کے بیانیے کو دہشت گردی سے جوڑنے کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ سیاسی جماعتوں کے دفاتر کے بجائے دہشت گردوں کے اڈوں پر چھاپے ماریں،بانی پی ٹی آئی نے اے پی سی میں شرکت کی اجازت دی ہوئی ہے،دہشت گردوں کے اڈوں پر چھاپے ماریں ہم آپ کے ساتھ ہیں،پریس کانفرنس کرنے کا کام وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کا ہے،حکومت کی کمزوری اور نان پروفیشنلزم کی وجہ سے معاملات غلط چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے کرکٹ کی کٹیا تو ڈبو دی ہے اب پتہ نہیں کس چکر میں ہیں،وزیر اطلاعات سابق وزیراعظم ، سابق صدر اور سابق ڈپٹی سپیکر پ آرٹیکل 6لگانے کی بات کرنے کیلئے آ جاتے ہیں،قوم کو اعتماد میں لینے کیلئے کوئی وضاحت دینے کیلئے تیار نہیں،بنوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ امن مارچ کیلئے آئے تھے، کیا وہ دہشت گرد تھے،مردان میں لوگ امن مانگنے کیلئے آئے تھے،ہائی سیکیورٹی میٹنگ کے بعد وزیر دفاع کو چاہیے تھا کہ وہ قوم کو پالیسی سے متعلق بتاتے،جو شخص ملک اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف بات کرتا ہے ہم اس کے خلاف ہیں۔
جو شخص ملک اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف بات کرتا ہے ہم اس کے خلاف ہیں، علی محمد خان



