اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سابق نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز نے حکومت کوآئی پی پیز کی قیمتیں کم کرنے کا فارمولا دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آئی پی پیز سے معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کرائے، پیسے ہم دیں گے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یکم جولائی کو صنعتکار میرے پاس آئے اور کہا 240 ارب کی کراس سبسڈی تھی، صنعتکاروں نے بتایا حکومت نے کراس سبسڈی ختم کرنے کیلئے رضا مندی ظاہر کی۔گوہر اعجاز نے بتایا کہ میں نے حکومت کیلئے کام کیا،اس سال ساڑھے 3 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ بڑھی، بار بارکہتا رہا بجلی کی قیمت ٹھیک ہونے تومینوفیکچرنگ نہیں چل سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کا ریٹ پورے خطے میں 9سینٹ سے16سینٹ تک ہے، کونسا ملک ہے کہاں صنعت دوسرے کنزیومر کو سبسڈائز کرتی ہے، کسی سیکٹرکوسبسڈی دینی ہے توحکومت کو اپنے بجٹ سے دینی چاہیے۔سابق وزیر نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ 7روپے 13 پیسے دوبارہ ٹیرف ہے، رپورٹ بھی پڑھی، میں رپورٹ پڑھتا گیا اور روتا گیا کہ یہ کیا ہورہا ہے، 1.95ٹریلین روپیکی پیمنٹ ہوچکی ہے اور 160 ارب روپے کے بل نیپرا کے پاس پڑے ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ نیپرا نے2.11ٹریلین کا حساب بنا کر دیا ہے، جس کے پیسے دیں گے، اویس لغاری کہتے ہیں کہ 18روپے کچھ پیسے کیپسٹی پیمنٹ ہے، ہمارے پاس آئی پی پیز کے علاوہ ہائیڈل،پرانے جینکوز بھی ہیں۔سابق وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے یونٹ کی قیمت 24روپے ہوگئی ہے، ڈیٹا ہے کہ 100 ارب یونٹ سال کے بنارہے ہیں، آئی پی پیز کے 23 ہزار 400 میگا واٹ ہیں ،پرانی چیزوں کا بھی قوم پر بوجھ ہے، میں نے صرف 3 پلانٹوں کا ڈیٹا شیئر کیا ہے ، 3پلانٹوں کو 15فیصد چلنے پر 37 ہزار کروڑ روپے دے ئدیے گئے. انھوں نے حکومتی بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کہتے ہیں پلانٹ چلیں نہ چلیں پیسے دینے ہیں تو معاہدے کس نیکیے، ان 3میں سے 2پلانٹ حکومت کے اورایک نجی کمپنی کاہے،حکومت اپنے پلانٹوں سے متعلق کہہ رہی ہے کہ ان کا اعتماد بحال رکھنا ہے، اپنے پلانٹوں سے بجلی بنانے پرپیمنٹ کی بات نہیں کرسکتے، پیمنٹ کی بات کی تو حکومت سے حکومت ناراض ہوجائے گی۔سابق وزیر نے سوال کیا کہ کیا حکومت کے لگائے گئے سی ای اوز حکومت سے ہی ناراض ہوجائیں گے، کہا جاتا ہے معاہدیریوائز نہیں ہوسکتے،52فیصدحصہ تو حکومت کااپنا ہی ہے، 37ہزارکروڑ میں سے22ہزارکروڑ حکومت کے پلانٹوں کو دیے گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی پی پیز میں 52 فیصد حکومت،28 فیصد نجی سیکٹر کے ہیں، حکومت اپنی 52 فیصد سے ہی کام شروع کرے صرف بجلی بنانے پرپیسے دے، 24روپے کا جو یونٹ ہے وہ 8روپے کا ہونا چاہیے تھا۔سابق وزیر تجارت حکومت کی جانب سے ہرمعاہدہ دگنی قیمت پر لگا دیاگیا ہے، حکومت سنجیدہ ہے تو معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کرائے، پیسے ہم دیں گے۔
حکومت آئی پی پیز سے معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کرائے، پیسے ہم دیں گے، گوہر اعجاز



