ا سلام آباد (نیشنل ٹائمز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں رونما ہونے والے حادثات کے نتیجے میں بننے والی غیرجمہوری اور حادثاتی حکومتوں سے جنم لینے والی نسل کسی حادثے کے انتظار ہر وقت شیروانی سلوا کر تیار بیٹھتی ہے، آرٹیکل 209 توہین عدالت غلط فیصلے دینے والوں پر بھی لگنا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک ٹوئٹ میں کیا ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلے سیاسی نہیں بلکہ آئینی اور قانونی ہونے چاہئیں، عدلیہ کی ذمہ داری قانون کی تشریح کرنا ہے قانون سازی کرنا نہیں ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ججز جو سیاسی ریمارکس دیتے ہیں اس کی آمیزش نہیں ہونی چاہیے، عدلیہ کے اتنے سیاسی فیصلے ہیں کہ گنتی ختم ہو جاتی ہے، جسٹس منیر والا فیصلہ بھی سیاسی تھا اور بھٹو والا فیصلہ بھی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ فیصلے کے بعد جو صورتحال ہوئی اس سے آئینی خرابی ہو سکتی ہے، استحکام سیاستدانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ عدلیہ، میڈیا اور بیوروکریسی پر بھی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ عدلیہ کو اپنا وجود بحال کرنا چاہیے، عدلیہ کی چپقلش کے افسانوں کا ذکر گلی محلوں میں ہو رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے جرمنی میں پاکستانی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کے بارے میں کہا کہ پاکستان اس وقت بھی 40 لاکھ افغانوں کی میزبانی کر رہا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے افغانوں کیلیے روس سے جنگ لڑی اور اب دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، افغانی احسان فراموش ہیں۔ جرمی واقعہ کے بعد کیا انکی میزبانی بنتی ہے ؟اپنے ٹوئٹ میں وزیردفاع نے حکومت کے خاتمے کی افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں رونما ہونے والے حادثات کے نتیجے میں بننے والی غیرجمہوری اور حادثاتی حکومتوں سے جنم لینے والی نسل کسی حادثے کے انتظار ہر وقت شیروانی سلوا کر تیار بیٹھتی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ آج کل بہت پریس کانفرنسیں اور ٹی وی شوز ہو رہے ہیں، وطن عزیز کی سیاست نے 75سال میں بے شمار حادثات کو جنم دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ان حادثات کے نتیجے میں غیر جمہوری سیٹ اپ بنتے رہے جو انتخابات کا پروڈکٹ نہیں ہوتے اور کبھی وہ بظاہر انتخابات کے انعقاد کے لیے ہوتے اور کبھی وہ غیر معینہ مدت کے لیے لمبے ہو جاتے ہیں۔وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ان حادثاتی حکومتی (سیٹ اپس) نے سیاست دانوں، ٹیکنوکریٹس اور کاروباری لوگوں کی ایسی نسل جنم دی ہے جو ہر وقت کسی حادثے کے انتظار میں شیروانی سلوا کے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب حالات میں بے یقینی ہوتی ہے تو وہ نئی سیاسی جماعتیں، پریس کانفرنسیں، ٹی وی پر منہ دکھائی کی بھرمار شروع کر دیتے ہیں اور قبلہ رخ پنڈی کی طرف کر لیتے ہیں۔خواجہ آصف نے اپنی ٹوئٹ میں معروف شاعر افتخار عارف کی نظم بارھواں کھلاڑی کے چند اشعار بھی شیئر کیے۔بارہواں کھلاڑی بھی۔۔کیا عجب کھلاڑی ہے!انتظار کرتا ہے۔۔ایک ایسی ساعت کا۔۔ایک ایسے لمحے کا۔۔جس میں سانحہ ہو جائے۔۔پھر وہ کھیلنے نکلے۔۔
حادثاتی حکومتوں سے جنم لینے والی نسل شیروانی سلوا کر تیار بیٹھتی ہے، خواجہ آصف



