اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواستیں گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے کیسز کی سماعت کرنے والی پریکٹس اینڈ پروسیجز کمیٹی کے 17 ویں اجلاس کے منٹس جاری کر دیئے جس کے تحت دو ایک کی اکثریت سے نظرثانی درخواستیں گرمیوں کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔دستاویزات کے مطابق مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواستیں سماعت کے لئے مقرر کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نظرثانی صرف وہی 13 ججز سن سکتے ہیں جنہوں نے مرکزی کیس سنا۔دستاویز کے مطابق جسٹس منیب اختر نے کہا کہ رولز کے مطابق عدالتی سال ستمبر کے دوسرے پیر کو شروع ہوگا، چیف جسٹس نے 15 جولائی سے عدالتی چھٹیوں کا اعلان کیا، چھٹیاں کسی رولز کے مطابق منسوخ نہیں کی جاسکتیں، کمیٹی یا چیف جسٹس عدالتی چھٹیاں منسوخ نہیں کر سکتے۔ دستاویزات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے فوری نظرثانی درخواستیں مقرر کرنے کے خلاف رائے دی۔ جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے موقف اختیار کیا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے باعث ججز دستیاب نہیں، نظرثانی اپیل مقدمات کے تفصیلی فیصلے کے بعد مقرر کی جاتی ہے۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ نظرثانی درخواستوں پر سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد ہوگی، کیس کا تفصیلی فیصلہ بھی نہیں جاری ہوا۔چیف جسٹس نے نظرثانی درخواستیں چھٹیوں کے بعد مقرر کرنے کے فیصلے سے اختلاف کیا۔دستاویزات کے مطابق نظرثانی سننے کے بجائے چھٹیاں گزارنے کی جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس منیب اخترکی رائے پر چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے جواب دیا اور اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ہمارا کام آئین و قانون پر عمل کرنا ہے، ہم ججز نے آئین، قانون کے تحت حلف اٹھارکھا ہے رولز کے تحت نہیں، آئین و قانون کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ذاتی ترجیحات کے بجائے آئین، قانون کیمطابق عمل پیرا ہونا چاہیے، ایک ہفتے میں جسٹس عائشہ ملک بیرون ملک سے واپس پاکستان آسکتی ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز کا اختلافی نوٹ میں کہناتھاکہ میرے دو ساتھی ججز نے نظرثانی نہ سننے کی دو وجوہات بتائیں، ساتھی ججز نے رائے دی تفصیلی فیصلہ ابھی آنا ہے، تفصیلی فیصلہ تو ان 8 ججز کوہی تحریر کرنا ہے، عدالت کے اقدام سے کسی کے حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے اور تفصیلی فیصلے کے انتظار تک نظرثانی سماعت کیلئے مقرر نہ کرنے سے آئین و قانون بے معنی ہو جائے گا۔چیف جسٹس قاضی فائز نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ آرٹیکل 63 اے نظرثانی 10 دنوں میں سماعت کیلئیمقررکی جائے، آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیلئے دونوں ججز دستیاب ہیں، 63 اے کیس پر سماعت کرنے والے چیف جسٹس عمر عطا بندیال ریٹائر ہو گئے اور جسٹس ریٹائرڈ اعجاز الااحسن مستعفی ہو گئے۔ان کا کہنا تھاکہ جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل دستیاب ہیں، آرٹیکل 63 اے نظرثانی کے بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس یحیی آفریدی کو شامل کیا جائے۔چیف جسٹس نے مزید لکھاکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت معاملہ جلدی کا ہو تو نظرثانی 15 دنوں میں سماعت کیلئے مقرر ہونی چاہیے، سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے 15 دنوں میں نظرثانی سماعت کیلئے مقرر نہ ہوئی تو کیس غیر موثر ہو جائے گا۔
مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواستیں گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد مقرر کرنے کا فیصلہ، سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجز کمیٹی کے اجلاس کے منٹس جاری کر دیئے



