لاہور( نیشنل ٹائمز) وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے بڑے شہروں میں ماڈل بازار بنانے کا اعلان کیا ہے، 36 ماڈل بازاروں میں مفت آن لائن ڈیلیوری کا آغازکردیا گیا ہے۔ ٹاؤن شپ میں ماڈل بازاراپ گریڈیشن، فری ہوم ڈیلیوری پراجیکٹ، فری ہوم ڈیلیوری ایپ اور سولرائزیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ جہاں ماڈل بازار نہیں وہاں بنائیں گے، اراضی کا تعین کر لیاہے-انشاء اللہ پنجاب کے تمام شہروں میں ماڈل بازار بنائیں گے اور پہلے سے موجود بازاروں کو اپ گریڈ کریں گے۔
خوشی ہوئی کہ عوام کی سہولت اور آسانی کے لیے ماڈل بازار کو ماڈل بنا کے پیش کیا- افضل کھوکھر نے بہترین طریقے سے ماڈل بازاروں کو چلایا- ماڈل بازار میں لوگوں کیلئے بیٹھنے کی مناسب جگہ ہے۔
ماڈل بازار میں خصوصی افراد کیلئے ویل چیئرز اور سپیشل پبلک ٹوائلٹس موجود ہیں۔ ماڈل بازار میں ڈی سی ریٹ سے کم قیمت پر اشیاء خوردونوش دستیاب ہیں۔ ماڈل بازار میں سہولتوں سے متعلق عوام سے بات ہوئی، لوگ بہت خوش ہیں۔
وزیراعلی مر یم نوا زنے کہاکہ عوام کی خوشی سے بہتر میرے لئے کوئی احساس نہیں،عوام سے زیادہ آج میں خوش ہوں – پنجاب میں عوام کی خدمت کی نئی روایت قائم کی ہے۔ نگہبان رمضان اور دستک ایپ جیسی سہولیات کے ذریعے عوام کا حق انکی دہلیز پر دیا۔ سب سے زیادہ خوشی کی بات ہے کہ آج سے ماڈل بازار ہوم ڈیلیوری سروس شروع کی ہے- خواتین اشیاء ضروری کال کر کے یا ایپ کے زریعے اپنی دہلیز حاصل کرسکتے ہیں – ایک شخص کہا کرتا تھا میں آلو، پیاز کے ریٹ چیک کرنے نہیں آیا۔
میرے دن کا زیادہ حصہ اشیاء خوردونوش کے ریٹس مانیٹر اور کنٹرول کرنے میں لگتا ہے۔ آفس میں لائیو دیش بورڈ کے ذریعے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کی مسلسل مانیٹرنگ کرتی ہوں – مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں ہی صرف عوام کیلئے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے۔ میرے والد محمد نوازشریف مجھے روز ہدایت کرتے ہیں کہ روٹی اور آٹے کی قیمت بڑھنے نہیں دینی۔
انہو ں نے کہاکہ ملکی تاریخ میں کبھی نہیں سنا کہ 25 سے روٹی 13 روپے تک آ ئے گی- وزیراعظم شہباز شریف کو مشکل فیصلے کرنے پڑے کیونکہ پچھلے دور حکومت میں اکانومی کو بدحال کیا گیا۔ ہمیں ترقی کرتا ہوا نہیں بلکہ تنزلی کی طرف جاتا ہوا پاکستان ملا۔اڈیالہ جیل میں بیٹھے شخص نے آئی ایم ایف کو دوبارہ دعوت دی۔ انہو ں نے کہاکہ بجلی کے بل بڑھے ہیں توپنجاب میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سولر منصوبہ شروع کیا۔
200 یونٹ تک فری اور 200 سے 500 یونٹ استعمال کرنے والوں کو آسان اقساط میں سولر سسٹم ملے گا۔ انشاء اللہ ہمیشہ کے لیے عوام کو مہنگے بلوں سے نجات دیں گے- اللہ کا شکر ہے کہ مہنگائی کم ہورہی ہے- مسلم لیگ (ن) آئی ہے تو سٹاک مارکیٹ انڈیکس 82 ہزار پر پہنچ گیا- جب عوام پر ٹیکس لگتا ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے- جب ملک میں بہتری آتی ہے تو کسی نہ کسی کو تکلیف ہونے لگتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ عدم استحکام کی شکل نہیں ہے تواور کیا ہے۔سپریم کورٹ کے ججز نے آئین کو ری رائٹ کیا ہے، جو نہیں مانگا گیا وہ عطا کر دیا۔ ایک ہارے ہوئے شخص اور جماعت کو فیور کرنے کیلئے آئین کو ری رائٹ کر رہے ہیں۔کہا گیا تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرو،جو جماعت پارلیمنٹ میں موجود ہی نہیں۔ سپریم کورٹ نے لکھا کہ پہلے بیان حلفی قبول نہیں، فلور کراس کرنے کی تلقین کی گئی- سپریم کورٹ کے ججز سے کہنا چاہتی ہوں اس ملک کو چلنے دیں۔
اگر کسی نے ترقی میں رخنہ ڈالنے اور عدم استحکام کی کوشش کی تو اسکے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ فیصلے ضمیر کے مطابق نہیں آئین اور قانون کے مطابق ہونے چاہیں، ضمیر تو بک بھی سکتا ہے۔ عوام اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اور اپنے دوست اور دشمن کو پہچانیں۔ انہو ں نے کہا کہ 76 سال ہوگئے ان سازشوں کو اب مزید کامیاب نہیں ہونے دیں گے-کوئی خاتون بے گناہ جیل جائے تو دکھ ہوتا ہے، لیکن ملک میں آگ لگانے والے معصوم نہیں – ایک عورت نے اس ملک پر حملہ کیا اور تنصیبات کو آگ لگائی،اس کو ضمانت دے دی گئی۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والوں سے اس ملک کو محفوظ رکھے۔ انہو ں نے کہاکہ ایک شخص کو چار سال حکومت ملی تو ایسی تباہی کی جس کی مثال نہیں ملتی۔ آج عوام پر جو مصیبتیں آئی ہیں یہ انہیں چار سالوں کا نتیجہ ہے۔ خیبرپختونخوا میں ان کی حکومت کو گیارہ سال ہو گئے۔ انہوں نے اتنے عرصے سے خیبر پختونخوامیں کیا کیا، صوبے کو تباہ کر کے رکھ دیا، جہاں پنجاب ختم ہوتا ہے اور خیبرپختونخوا شروع ہوتا ہے وہاں ترقی ختم اور زوال شروع ہوتی ہے۔
اپنے فرائض سے مجرمانہ غفلت کے علاؤہ انکے پاس کیا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ قوم سے وعدہ کرتی ہوں جب تک عہدوں پر ہیں ترقی کی نئی مثالیں قائم کرتے رہیں گے۔ عاشورہ پر شاندار انتظامات اور مثالی لا ء اینڈ آرڈر برقرار رکھنے پر وزراء، انتظامیہ اور پولیس کو شاباش دیتی ہوں۔ پہلی بار پنجاب میں عزاداران کیلئے سبیلیں لگائیں اور کھانا تقسیم کیا۔ڈرون کیمروں سے جلوسوں اور ریلیوں کی مانیٹرنگ کی گئی۔



