حکومت میں پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی ہمت نہیں، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)عوام پاکستان پارٹی کے کنو ینئیر ا ور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت میں تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی ہمت نہیں، حکومت عمران خان کی غلطیاں دہرا رہی ہے، حکومت کو آرٹیکل 6 لگانے کا بہت شوق ہے، اگرایسا ہوا کہ تو بہت سے لوگ زد میں آئیں گے وہ لوگ بھی جو حکومت میں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے پہلی پریس کانفرنس کررہا ہوں، آئین کا آرٹیکل 14 پرائیویسی کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 19 آزادی رائے کا حق دیتا ہے اور آئین کے تحت ہی ان پر قدغن لگائی جاتی ہے، لیکن قدغن کو خرابی میں تبدیل ہونے سے بچانے کے لیے سیف گارڈز بھی لگانے پڑتے ہیں، پابندی کا مقسد ہونا چاہیے، یہ ممکن نہیں کہ حکومت کا نوٹیفکیشن آئین سے متصادم ہو، فون ٹیپنگ کا معاملہ حساس معاملہ ہے اس میں اتنی عجلت کیوں کی گئی؟ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ پارلیمان میں کیوں نہیں لایا گیا؟ کابینہ میں کیوں نہیں لائے؟ حکومت کو حساس نہیں کہ موبائل ہماری زندگی بن چکا ہے، سارا کاروبار اسے سے کنٹرول ہوتا ہے، سیکیورٹی بھی یہی ہے، اس نوٹیفکیشن نے ہماری زندگی گریڈ 18 کے افسر کے حوالے کردیا ہے، کوئی جمہوری ملک اس کی اجازت نہیں دیتا، جہاں ڈیٹا محفوظ نہیں وہاں آئی ٹی کا کاروبار کیسے ہوگا؟سپریم کورٹ کے مخصوص نشست کے فیصلے سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اگر یہ فیصلہ دیا ہے تو یہ ان کا کام ہے، وہ حلف اٹھاتا ہے انصاف فراہم کرنے کا، ہمیں میڈل بانٹنے کا شوق ہے، یہ مشکل فیصلہ نہیں تھا، اس میں کوئی دو راہیں نہیں ہیں، جمہوریت ایسی فیصلوں سے ہی پلتی ہے۔وزیر اطلاعت عطا تارڑ کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاسی جماعت پر پابندی کی کوئی مثال نہیں ملتی، یہ ملک کو کس طرف لے کر جانا چاہتے ہیں؟ یہ حکومت کسی پر پابندی نہیں لگا سکتی، ان کو آرٹیکل 6 لگانے کا شوق ہے، یہ کام احتیاط کے ساتھ کرنے چاپیے، عمران خان پر ظلم کرنے سے کیا معاملات ٹھیک ہوجائیں گے؟ حکومت کو قانون کے مطابق بات کرنی چاہیے، 9 مئی کو ایک سال ہوگیا مگر ایک شخص کو بھی سزا نہیں ہوئی، ایک فیصلے بعد پابندی کی بات سے کیا تاثر آئے گا؟۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں حکومت ہے کیا وہاں گورنر راج لگائیں گے؟ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پارلیمان گالم گلوچ کا پلیٹ فارم بن گیا ہے، ملک میں نظام صرف آئین کیمطابق ہوناچاہیے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے جمہوری اور پارلیمانی قدروں کا احترام نہیں کیا، پابندی کا مقصد ہوناچاہیے، خرابیاں نہیں ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قانون آئین سے متصادم نہیں ہوسکتا، ہمیں ملک میں پارلیمانی و جمہوری قدریں لاناہوں گی، پارلیمان اکیلے نہیں چل سکتا، اپوزیشن پارلیمان کا حسن ہوتا ہے، عمران خان بھی اپو زیشن کو بند کرنا چاہتے تھے اور یہ بھی یہی کر رہے ہیں، حکومت کا تو اپنا مینڈیٹ مشکوک ہے، سیا سی جماعتوں کا مقابلہ پولنگ اسٹیشنز پر ہوتا ہے، ہم ملک کی بات کر رہے ہیں، جو کچھ کرنا ہے آئین کے مطابق کریں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگا رہی ہے، بانی سمیت سب کو جیل میں ڈال دیں گے، یہ کون سی سیاست ہے؟ کیا جیل میں ڈالنے سے معاملات درست ہوجائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے 9 مئی فوجی تنصیبات پرحملوں کا کچھ نہ کیا، ایک سال گزر گیا، مزید کہا کہ حکومت کو آرٹیکل 6 لگانے کابھی شوق ہے، آرٹیکل 6 پھر حکومت کے حلقوں پر بھی پڑیگا۔



  تازہ ترین   
امریکی ٹی وی کی ایرانی طیاروں کی موجودگی کی خبر گمراہ کن ہے: دفتر خارجہ
ایران سے مذاکرات یا جنگ؟ ٹرمپ نے آج قومی سلامتی اجلاس طلب کر لیا
امریکہ کیلئے ایرانی عوام کے حقوق تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں: باقر قالیباف
برطانیہ: بلدیاتی انتخابات میں شکست پر کئی وزیر مستعفی، وزیراعظم پر بھی استعفیٰ کیلئے دباؤ
بنوں پولیس چوکی حملہ: افغان ناظم الامور دفترخارجہ طلب، احتجاجی مراسلہ دیا گیا
امریکی بحریہ کی جوہری میزائلوں سے لیس آبدوز جبرالٹر پہنچ گئی
وزیراعظم کا خوشحال گڑھ پل پر دہشت گردی ناکام بنانے والے شہید لیاقت کو خراجِ تحسین
ایران اور سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، جنگ ختم کرنے بارے تبادلہ خیال





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر