سات اکتوبر کا حملہ روکنے میں اسرائیلی فوج نے ناکامی تسلیم کرلی

تل ابیب (نیشنل ٹائمز) سات اکتوبر کا حملہ روکنے میں اسرائیلی فوج نے ناکامی تسلیم کر لی۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے نیتن یاہو کو شامل کر کے ریاستی انکوائری کا مطالبہ کر دیا،اسرائیل کی فوج نے جمعرات کے روزایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ حماس کی طرف سے سات اکتوبر کا حملہ نہ روکا جا سکنا اسرائیلی فوج کی ناکامی تھی۔ یہ بات فوج کی طرف سے اس بارے میں پہلی باضابطہ تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آئی ہے،تحقیقاتی رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کیبوتز بیری کمیونٹی کے تحفظ کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوئی، اس کمیونٹی کے اسرائیلی بری طرح حماس کے حملے کا نشانہ بنے تھے،اس حملے میں صرف اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سو سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ باقی اسرائیلی ہلاکتیں اس کے علاوہ تھیں،تحقیقات میں اس روز یعنی سات اکتوبر کو واقعات کی مختلف کڑیوں کو ملا کر دیکھا گیا ہے۔ اس میں حملے کے رد عمل میں سکیورٹی فورسز کے ریسپانس اور رویے دونوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ رپورٹ کے کچھ حصے پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔فوج نے مذکورہ بالا کمیونٹی کے تحفظ میں ناکامی کا اعتراف کرنے کے علاوہ اس کمیونٹی کی بہادری کا بھی اعتراف کیا ہے۔ اسی طرح ‘ریپڈ ریسپانس ٹیم’ کی بھی تعریف کی گئی ہے۔ جس نے حماس کا حملہ روکنے کی کوشش کی۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج اس حملے کا جواب دینے کے لیے تیار نہ تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس طرح بڑا حملہ ہو گا اور ایسا منظر نامہ بن جائے گا۔ حتی کہ دوپہر تک اسرائیلی فوج کے پاس کوئی واضح تصویر نہ تھی کہ ہوا کیا ہے۔ متعلقہ کمیونٹی کے جو لوگ مقابلہ کر رہے تھے وہ غیر منظم اور غیر مربوط تھا۔تاہم تحقیقات میں فوج کی طرف سے گھروں کی طرف گولہ باری کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ جہاں جنگجووں نے 15افراد کو یرغمال بنایا تھا۔ جب گھر پر فائرگ شروع ہوئی تو حملہ آوروں نے خود کو اور یرغمالیوں کو ہلاک کر دینے کا اعلان کر دیا۔ فوج نے یرغمالیوں کو بچانے کے لیے اس جانب طوفانی رفتار سے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔اسرائیلی فوج موقع پر پہنچی تو ادھر یرغمالی زخمی حالت میں نہیں تھے۔ اور کوئی بھی ٹینکوں کے گولوں سے زخمی نہ ہوا تھا۔ تاہم رپورٹ کے مطاق اس بارے میں مزید تحقیقات کی جائیں گی۔ گولہ باری سے گھر کے اندر یرغمالی ہلاک ہوئے یا نہیں۔اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے جمعرات ہی کے روز ریاستی سطح پر ایک انکوائری کا بھی مطالبہ کر دیا ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے حملوں کی سنگینی کا اندازہ کیا جا سکے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس انکوائری میں وزیر دفاع اور وزیر اعظم نیتن یاہو سے بھی پوچھا جانا چاہیے۔ خیال رہے نیتن یاہو اس طرح کی انکوائری کے مطالبے کو اس سے پہلے رد کر چکے ہیں۔



  تازہ ترین   
امریکہ-ایران جنگ بندی ہوگئی، 60 دنوں میں مستقل معاہدے کی امید ہے، وزیراعظم شہباز شریف
آبنائے ہرمز عالمی گزر گاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا کا واضح پیغام
امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کر لی
صدر مملکت کا سفارتکاری، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے پر خواتین کو خراجِ تحسین
منجمد فنڈز سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کوئی لازمی شرط نہیں، ایران
ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کا حصہ نہیں رہا: وزیراعظم
ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش
محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر