غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی

عابد حسین قریشی
انا پرستی، خود پرستی یا خود ستائشی، خودی، عاجزی اور تکبّر یہ سبھی ہمارے عارضے ہیں، خوبیاں ہیں، مثبت اور منفی پہلو ہیں۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ حضرت انسان مثبت اور منفی پہلوؤں کا خوبصورت شہکار ہے۔ کونسا پہلو کس وقت نمایاں ہو کر شخصیت پر غالب آ جاتا ہے اسکا تعیّن یا پیش گوئی کرنا ممکن نہ ہے کہ انسانی رویّے ہمہ وقت تغیّر پذیر ہوتے ہیں۔ انا پرستی، خود پرستی، خود ستائشی اور تکبّر تو بیماریاں ہیں۔ صرف ڈگری کا فرق ہے کہ کس لیول پر ہیں۔ البتہ خودی عاجزی اور خود شناسی مختلف چیزیں ہیں۔ اگر تو علامہ اقبال کا تصوّر خودی ماڈل ہے تو وہ تو انسان کو بہت اعلٰی و ارفٰع مقام پر فائز کروا دیتا ہے جسکا آجکل کے معاشرہ میں تصوّر بھی محال ہے۔ آج تو ہم اپنی عزت نفس کا سودا بڑا ارزاں اور سہل طریقہ سے بڑی معمولی دُنیاوی مصلحت کے لیے کر دیتے ہیں۔ مگر اقبال تو اسکا بلکل مختلف زاویہ بتاتا ہے۔

غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ
اے لا الہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں
گفتارِ دلبرانہ، کردارِ قاہرانہ

خودی اور انا پرستی یا Ego الگ الگ چیزیں ہیں۔ خودی آپکو ایک باعزت انسان کی طرح سر اُٹھا کر جینا سکھاتی ہے کہ اگر انسان میں عزت نفس، خود اعتمادی کے ساتھ جینے کی اُمنگ و ترنگ نہیں تو اُسکے انسان ہونے پر شک کرنے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔ جبکہ انا پرستی ایک منفی فعل ہے جو انسان کے اندر حسد و بغض، کینہ و کدورت جیسے فاسد خیالات کو جنم دیتا ہے اور انسان اندر سے ایک ایسی آگ میں جل رہا ہوتا ہے جسکے بجھانے کے لیے کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ انا اتنی کمزور ہوتی ہے کہ قدم قدم پر ٹوٹتی اور بکھرتی نظر آتی ہے۔ تصوّف اور روحانیت میں داخلہ کے لیے انا کو توڑ کر بلکہ بھسم کر کے سراپا عجز و انکسار اور اطاعت و انقیاد بنیادی شرائط ہیں۔ عاجزی و انکساری، انا اور ہٹ دھرمی کے متضاد ہیں۔ عاجزی صرف الفاظ سے نہیں دل سے، نگاہوں سے ، جسم سے اور سب سے بڑھکر عمل اور قول و فعل سے مترشّح ہوتی ہے۔ محض زبان کا میٹھا ہونا، دل میں بغض و عناد رکھنا اور اپنے علمی، روحانی، مالی، جسمانی اور دیگر عوامل کے احساس تفاخر میں مبتلا ہونا عاجزی کے ڈھونگ کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ عجز و انکسار کا تعلق روح سے ہے۔ یہ روح کی وہ غذا ہے کہ خالق کائنات کو بے حد پسند اور اخلاص کے ساتھ عاجزی کرنے والے پر رحمتوں اور برکتوں کی بارشیں۔ عملی زندگی میں بہت معمولی صلاحیتوں کے حامل لوگوں کو صرف عاجزی و انکساری کے سبب بڑی غیر معمولی نعمتوں اور برکتوں سے نوازا جانا خود دیکھا اور ستائش کی۔ مگر اس عاجزی میں بھی عزت نفس کی پامالی مطلوب نہ ہے۔ آپ عاجزی و انکساری میں اپنی ذات کی نفی کر سکتے ہیں اور ایسا کرنا بھی ضروری ہے اور عین ممکن بھی۔ مگر اس عاجزی و انکساری میں اپنی عزت نفس اور خودی کا سودا ممکن نہیں۔ انا پرستی یا Ego انسان کو مغرور بنا دیتی ہے۔ یہ خوامخواہ کی نحوت کو جنم دیتی ہے۔ اس کے برعکس اپنی ذات کی نفی اور خود شناسی، انا پرستی اور Ego کو زیر کرنے میں اکسیر کا کام کرتی ہیں۔ اگرچہ اپنی ذات کی نفی ایک جان گُسل مرحلہ ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ سہولت صرف اللہ کے خاص بندوں کو عطا ہوتی ہے ورنہ ہمارے جیسے عام انسان تو ہمہ وقت انا پرستی کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھائے پھرتے ہیں اور بڑی معمولی معمولی باتوں پر یہ انا زخم خوردگی اور مضحمل شدہ کی تصویر بنی نظر آتی ہے۔ حضرت انسان کا انا پرستی سے ذات کی نفی تک کا سفر بڑا کٹھن، گھمبیر اور مشکل ہے۔ مگر ناممکن نہیں۔

باقی رہا تکبّر تو یہ انسان کے لیے تو بنا ہی نہیں ویسے انسان جو صرف ایک سانس کا محتاج ہے وہ تکبّر کر بھی کس چیز پر سکتا ہے۔ مگر ہمارے گردوپیش ہمہ وقت تکبّر، بڑا بننے کا خبط اور دوسروں کو حقیر جاننے کا مرض دھمالیں ڈال رہا ہوتا ہے۔ متکبّر انسان بنیادی طور پر احسان فراموش اور ضلالت و غوایت کی آخری حدوں کو چھو رہا ہوتا ہے۔ اُسکی سوچ کا محور استحقاف و تحقیر اور شقاوت و تنبیہ جیسی قبیح عادات کا مرقّع ہوتا ہے جو دوسروں کے دکھ اور تذلیل و تحقیر میں خوشی تلاش کرتا ہے۔ متکبّر شخص کے ساتھ متکبّرانہ رویّہ رکھنا مستحسن بلکہ پیارے آقا و مولٰی حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان عالی شان کے مطابق صدقہ کے مترادف ہے۔ ویسے بھی متکبّرانہ رویّہ انسان کو دوسروں کی نظر سے گرا دیتا ہے اور ایسا شخص کبھی بھی دوسروں کی نگاہ میں عزت و توقیر، احترام، ادب اور لحاظ کا مستحق نہیں گردانا جاتا۔ بعض اوقات آپکی خاموشی، عاجزی و انکساری اور رکھ رکھاؤ وہ کرتب دکھا جاتے ہیں جو بڑھک بازی، خود پرستی، خود ستائشی، تکبّر و غرور نہیں دکھا پاتے۔ بانو قدسیہ نے کیا خوبصورت بات کی کہ “ چیخ و پکار انسان کے وقار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ لوگوں کو اپنی خاموشی سے خوفزدہ کرنا سیکھو”

علامہ اقبال کا پیغام خودی، خود شناسی، خود فہمی اور حقیقت شناسی کی طرف پیش قدمی کرتا نظر آتا ہے۔ اگر انسان خود شناس ہو جائے تو کئی حقیقتیں اور سر بستہ راز کُھلتے جاتے ہیں۔ تاہم خود شناسی کچھ اتنی آسان بھی نہ ہے۔ خود شناسی، خود فہمی، انسانی عزتِ نفس پر پہرہ دیتی ہے۔ یہ ذلت و گراوٹ کی بجائے بلند مقامی، عزت و توقیر کا باعث بنتی ہے۔

یہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائی
یا بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ
تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
کھویا گیا ہے تیرا جذب قلندارانہ



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر