لندن (نیشنل ٹائمز) افغانستان کے جیلوں میں قید ایک خاتون پر اجتماعی زیادتی کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق طالبان کے اقتدار میں افغان خواتین پر متعدد جنسی تشدد واقعات کے ساتھ خواتین کو خاموش کرنے کے لیے فوٹیج جاری کرنے کی دھمکی دی گئی، افغان خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ویڈیو انہیں دھمکی کے طور پر بھیجی گئی کہ اگر اس نے طالبان حکومت کے خلاف بات جاری رکھی تو اسے وسیع پیمانے پرشیئر کیا جائے گا۔اقوام متحدہ نے بھی طالبان کی جیلوں میں قید خواتین کیساتھ ناروا اور بہیمانہ سلوک کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا،رپورٹ کیمطابق افغان خاتون کو طالبان کے خلاف عوامی احتجاج میں حصہ لینے پرگرفتار کیا گیا تھا اور طالبان کی جیل میں دوران حراست زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ افغانستان کے تین صوبوں میں 90 قیدی خواتین میں سے 16 افغان طالبان کی جانب سے زیادتی کے واقعات کے بعد حاملہ ہوئی، امریکی محکمہ خارجہ رپورٹ کے مطابق افغان جیلوں میں قید خواتین کو تشدد، بجلی کے جھٹکوں، جان سے مارنے کی دھمکیوں، جنسی طور پر ہراساں کرنے اور جبری شادی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔۔اس سے قبل بھی خواتین کو حجاب قوانین کی خلاف ورزی پرحراست میں لیے جانے کے بعد جنسی زیادتی کر کہ مارا پیٹا گیا،گزشتہ سال طالبان کی جانب سے حراست میں لینے کے چند ہفتوں بعد ایک خاتون کی لاش نہر سے ملی جس کو موت سے قبل تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔افغانستان پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نیرپورٹ کیا کہ”خواتین کو حراست میں جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے”افغان خواتین کا کہنا ہے کہ طالبان کی جیلوں میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد معمول کا حصہ ہے،اقتدار پر مسلط ہونے کے بعد طالبان نے خواتین کو عوامی زندگی کے ہر پہلو سے خارج کر دیا،طالبان نے خواتین پر سخت قوانین لگانے کے علاوہ سرعام کوڑے مارنے اور سنگسار کرنے کا بھی اعلان کیا،طالبان کے خلاف آواز اٹھانے پر سینکڑوں خواتین کو گرفتار کرنے کے بعد تشدد، زیادتی کا نشانہ بنا کر مارا پیٹا گیا ۔سال 2022 میں بھی متعدد افغان خواتین کو ایک منظم تحریک کی کوشش کے بعد 41 دن تک قید میں رکھا گیا اور ظلم و ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
افغانستان، طالبان کی جانب سے جیل میں قید خاتون کیساتھ اجتماعی زیادتی کی ویڈیو منظرعام پرآگئی



