ماسکو (نیشنل ٹائمز)روس کے مسلم اکثریتی شمالی قفقاز کے علاقے داغستان میں حکام نے خواتین کے نقاب پہننے پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی، یہ پابندی گزشتہ ماہ یہودی اور عیسائی عبادت گاہوں پر حملوں میں 22 افراد کی ہلاکت کے بعد لگائی گئی ہے۔داغستان ایک روسی خطہ ہے جو مشرقی یورپ کے شمالی قفقاز میں واقع ہے، یہاں کی مسلم اکثریت جارجیا اور آذربائیجان کی سرحدوں پر واقع ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق داغستان میں علمائے کرام کی تنظیم (مفتیان)نے ٹیلی گرام میسنجر ایپ پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا روس کی وزارت قومی پالیسی ومذہبی امور کی اپیل کے بعد خواتین کے نقاب پہننے پر عارضی پابندی عائد کررہے ہیں۔23 جون کو روس کے شمالی خطے میں عبادت گاہوں پر حملوں کی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ حملہ آوروں میں سے ایک نے نقاب پہن کر فرار ہونے کا منصوبہ بنایا تھا۔داغستانی مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی ایک مذہبی تنظیم، مفتیان نے کہا کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک اس حوالے سے خطرات ختم نہیں ہوجاتے۔ حکام کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے داغستان کے شہر ماخچکالا اور ڈربنت میں بیک وقت حملے کیے جس کے نتیجے میں 12 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
روس، داغستان میں پورے چہرے کے نقاب پر پابندی عائد



