کراچی(نیشنل ٹائمز)پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کی صوبائی وزراء کی ہمراہ پریس کانفرنس۔نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ آنکھوں سے اندھی اور کانوں سے بہری حکومت کچھ نہیں کر رہی۔موجودہ حکومت نے سندھ کے معاشی قتل کی ٹھان لی ہے۔سندھ کا جو وفاق میں حصہ ہے وہ نہیں دیا جا رہا۔پانی جو سمندر کو روکتا ہے،جو طعنے مشرف دیتا تھا وہی عمران خان دے رہا ہے کہ پانی سمندر ضایع ہو جاتا ہے۔پانی زندگی کا مسئلہ ہے سندھ کے لوگ اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔تین سال سے اسٹیل ملز بند ہے اب اس کو کباڑہ کرکے فروخت کرنے کا پروگرام ہے۔ایف آئی اے میں جو سندھ کے افسران تھے ان کو نکال دیا گیا۔کورونا کے معاملے پر جن اداروں نے امداد کی وہ پاکستان کو شرم دلا رہے ہیں۔بحریہ ٹاؤن احتجاج کے دوران جس نے آگ لگائی ان کو گرفتار کیا جائے گا۔مردم شماری میں سندھ کا فیملی سائز پانچ اور باقی صوبوں کا سات رکھا گیا۔مردم شماری پر سندھ کا اختلافی نوٹ ہونے کے باوجود منظوری دی گئی۔وفاق کی جانب سے سیاسی قتل کیا گیا اب معاشی قتل کیا گیااگر پی ایس ڈی میں 200 ارب کا اضافہ کیا جا رہا ہے تو اس میں سندھ کا حصہ کتنا ہے؟سندھ کی آن گوئنگ اسکیمز پر سالانہ 27 ارب حصہ وفاق کا تھا۔ جس کو کم کرکے پانچ ارب کردیا گیا۔پیپلز پارٹی نے ایک بی او ڈی کو ری ماڈل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔یہ مستقبل کا منصوبہ تھا جس سے سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنا تھاکے فور منصوبے کیلئے وفاقی حکومت اپنا حصہ دینے کیلئے تیار نہیں۔پی ایس ڈی پی کی تقسیم کے خلاف وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت کو اختلافی نوٹ لکھا ہے۔افسوس ہے اندرون سندھ کے وفاقی نمائندے خاموش ہیں۔ایم کیو ایم نے اپنا قائد چھوڑا ہے لیکن اس کی سوچ نہیں چھوڑی۔سندھ پاکستان کی ماں ہے، ہم آج بھی پاکستان کھپے کے نعرے پر کھڑے ہیں۔جن لوگوں نے بحریہ ٹاؤن کے گیٹ کو آگ لگائی اور پاکستان کے خلاف نعرے لگائے، ان میں اور قائد ایم کیو ایم میں فرق نہیں۔ہم بحریہ ٹاؤن مقدمات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جو ملوث نہیں ان کو آزاد کردیا جائے گا۔میں نہیں سمجھتا کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کرنے والے قائدین نے آگ لگانے کا کہا ہوگا۔ڈی ایچ اے کو بھی زمین ہم نے دی ہے۔کراچی اور حیدرآباد کے درمیان 95 ہاؤسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں۔
سندھ کا جو وفاق میں حصہ ہے وہ نہیں دیا جا رہا، نثار کھوڑو کی دھماکےدار پریس کانفرنس



