اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پیپلز پارٹی کے وفد کی الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو ۔نئیر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت گھبرائی ہوئی ہے اگلے انتخابات بھی یہ انجنئیرنگ کر کے اپنے نام کروانا چاہتی ہے۔الیکشن پر حکومت کا اثرورسوخ نہیں ہوسکتا ۔الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، بیرون ممالک میں بھی ای وی ایم کامیاب طریقہ نہیں ہے ۔پہلے بھی یہ سلیککٹڈ تھے اب بھی یہ انتخاب اپنے نام کروانا چاہتے ہیں۔ کوئی سیاسی جماعت اس کے حق میں نہیں ہے۔جبکہ شیری رحمٰن کا اس موقع پر کہنا تھا کہ حکومت عوام سے ووٹ کا حق چھیننا چاہتی ہے۔ عجلت میں یہ ایسے قوانین لارہے ہیں جو ملک کے اداروں کو تصادم میں لارہے ہیں ۔ان سے ان کے ایم این ایز ‘ایم پی ایز بھی نہیں سنبھالے جارہی ۔ہم اس کے راستے میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہونگے۔نوید قمرکا کہنا ہے کہ آج ہم نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی ہے نئے الیکشن قوانین کے حوالے سے ہمارے تحفظات ہیں ۔پارلیمانی کمیٹی میں بھی الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔پاکستان کے حالات کے مطابق ماضی میں بھی ٹیکنالوجی کے تجربات کیئے گئے۔ جو کامیاب نہ ہوئےووٹنگ مشین پر اربوں ڈالروں کی بات کی جارہی ہے ۔ہم کہاں سے لائیں گے اور کیسے ہم دور دراز علاقوں میں اسے یقینی بنائیں گے ۔دنیا بھر میں کہیں بھی انٹرنیٹ کا سسٹم محفوظ نہیں ہے۔ کہیں بھی ہیکنگ ہوجاتی ہے ۔آئین کے بر عکس کل قانون پاس کیا گیا، یہ لوگ دھاندلی کے نئے نئے طریقے نکالنے کا سوچ رہے ہیں ۔حکومت عوام سے ووٹ کا حق چھیننا چاہتی ہے ۔عجلت میں یہ ایسے قوانین لارہے ہیں جو ملک کے اداروں کو تصادم میں لارہے ہیں۔ ان سے ان کے ایم این ایز ایم پی ایز بھی نہیں سنبھالے جارہی ۔ہم اس کے راستے میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہونگے۔
موجودہ حکومت گھبرائی ہوئی ہے اگلے انتخابات بھی یہ انجنئیرنگ کر کے اپنے نام کروانا چاہتی ہے



