گاؤں میں ایک غریب کسان گاموں جو چند کنال زمین کا مالک تھا اور اسی زمین پر اسکی گزر اوقات تھی، اسے گاؤں کے چوہدری سے تعلقات رکھنے کا بڑا شوق تھا، اور وہ کسی نہ کسی طرح چوہدری کا منظور نظر بننا چاہتا تھا، اسی لگن میں گاموں نے چوہدری کے ڈیرہ پر روزانہ حاضری دینا شروع کر دی۔چوہدری صاحب کے ساتھ گاموں کا راز و نیاز بھی شروع ہو گیا۔ گاموں اپنے اس اپ گریڈڈ سٹیٹس پر چوہدری پر دل و جاں سے نہال تھا۔ چوہدری کا کاما جسے ہم ملازم بھی کہتے ہیں، اس نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روزانہ چوہدری کے مویشی/ ڈنگر گاموں کی فصل میں چھوڑ دینے۔ گاموں بچارے کی فصل چند دنوں میں چوہدری کے ڈنگروں کی نزر ہوگئی۔ مگر وہ چوہدری صاحب کے ساتھ اپنے نئے نئے تعلقات کو قائم رکھنا چاہتا تھا، اسلئے اس نقصان پر بولا نہیں، اور اگلی فصل پھر کاشت کر دی۔ مگر چوہدری کا کاما بھلا کہاں رکنے والا تھا، اس نے پھر وہی کام شروع کر دیا، روزانہ چوہدری کے جانور گاموں کی فصلوں کا اجاڑا کرتے۔ گاموں بہت چھوٹا زمیندار تھا، اسی زمین پر اس کی گزر بسر تھی، بھلا کتنی مار کھا سکتا تھا۔ ایک شام کو گاموں نے ہمت کرکے چوہدری کے اچھے موڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، چوہدری سے اسکے کامے/ ملازم کی شکایت کی، تو چوہدری صاحب نے حقہ کا کش لگاتے ہوئے بڑی بے نیازی سے کہا، کہ گاموں مجھے پکا یقین تھا،”” کہ بات جب بھی رہنی ہے، اور تعلقات خراب ہونے ہیں، پہل تمہاری طرف سے ہی ہونی ہے” ” ہمارے معاشرے میں بھی اس طرح کی کہانیاں چار سو پھیلی ہیں۔ہم بعض اوقات اپنے قد سے بڑی چھلانگ لگاتے ہیں، تعلقات شخصیات کے گلیمر کو دیکھ کر، انکے ظاہری ٹھاٹ باٹھ دیکھ کر، انکا سیاسی و سماجی، سرکاری و غیر سرکاری clout دیکھ کر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وہ چوہدری عام لوگوں کو گاموں کی طرح ہی treat کرتے ہیں۔ ویسے بھی اس complexed معاشرہ میں تگڑے اور ماڑے کی دوستی ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ سیدھا عدم توازن ہے، جو کسی بھی طریقہ سے ختم نہیں ہو سکتا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس سے ملتا جلتا ہی نقشہ ہے، نیتن یاہو بھی چوہدری ٹرمپ کا گاموں ہی تھا۔ چوہدری کے کہنے پر اور اسکی آشیرباد سے ہر وقت شرارت پر تلا رہتا تھا۔ چھوٹے اور مظلوم ملکوں پر چڑھ دوڑتا تھا۔ غلطی سے ایران والے بم کو لات مار بیٹھا، مگر خود بھی ڈوبا ساتھ چوہدری کو بھی لے ڈوبا۔ اس کہانی میں بہت سے لوگوں کے لئے بہت سے سبق ہیں۔ مگر ہم ان سے کم ہی سیکھتے ہیں۔ ایک چوہدری ڈوبتا ہے، تو ہم کسی نئے چوہدری کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔
چوہدری اور گاموں کی کہانی



