عارضی آرڈیننس کے تحت تقرریوں کی مستقل حیثیت نہیں:ـوفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ عارضی آرڈیننس کے تحت تقرریوں کو مستقل حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی جب تک پارلیمنٹ باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے انہیں تحفظ فراہم نہ کرے ، آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کے تحت حاصل عہدے تاحیات برقرار رکھنے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی کے ممبر اکیڈمکس امتیاز علی قریشی اور ممبر رجسٹریشن وقاص محمود کی برطرفی کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیئے اور دونوں کی آئینی درخواستیں خارج کر دیں۔ تین رکنی بینچ کا تفصیلی فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا جس میں قرار دیا ہے گیا کہ مذکورہ تقرریاں ایسے عارضی آرڈیننس کے تحت کی گئیں جو اپنی آئینی مدت پوری ہونے پر ختم ہو گیا۔ اگر عارضی آرڈیننس کے تحت اقدامات کو مستقل قانونی حیثیت دی جائے تو انتظامیہ کو پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار نظرانداز کرنے کا راستہ مل جائے گا۔ اتھارٹی کا قیام 2006 کے آرڈیننس کے ذریعے ہوا، بعد ازاں 2007 اور 2009 میں آرڈیننس جاری کیے گئے جو مدت پوری ہونے پر ختم ہو گئے ۔ 19 مارچ 2013 کو پارلیمنٹ نے مستقل قانون منظور کیاجس میں سابقہ آرڈیننس کے تحت کی گئی تقرریوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔

فیصلے میں سپریم کورٹ کے 2018 ایس سی ایم آر 1956 میں دیئے گئے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آرڈیننس کے ذریعے مستقل قانون میں کی جانے والی ترامیم بھی آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے بعد برقرار نہیں رہ سکتیں جب تک پارلیمنٹ قانون کا حصہ نہ بنا دے ۔ علاوہ ازیں وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی سے قبل امیدواروں کے کردار اور سابقہ مقدمات کی جانچ پڑتال کیلئے 6 اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض ایف آئی آر کا اندراج کسی امیدوار کو سرکاری ملازمت کیلئے خودبخود نااہل قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ صرف ایف آئی آر کا اندراج جرم کا ثبوت ہوتا اور نہ ہی اس سے جرم کا مفروضہ قائم ہوتا ہے ۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے ڈرائیور کانسٹیبل بھرتی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا اور بریت کے باوجود امیدوار کو بھرتی سے نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن اور لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی امیدوار کو سماعت کا موقع دیئے بغیر اور معقول وجوہات کے بغیر عام طور پر بھرتی سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے عبداللطیف کی امیدواری بحال کرنے ، متعلقہ حکام کو 30 دن کے اندر قانونی کارروائی مکمل کرکے تعیناتی کا آرڈر جاری کرنے کی ہدایت کی۔ درخواست گزار 2018 میں ایک مقدمے سے بری ہوا جبکہ اس کے پاس کلین پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا۔



  تازہ ترین   
ایران جنگ ہی ہماری انتخابی شکست کی وجہ بنی: جے ڈی وینس کا اعتراف
عوام مجھ سے تنگ ہوئے تو اسرائیل جا کر وزیراعظم بن جاؤں گا، ٹرمپ کا دلچسپ بیان
شامی صدر کی ریاض آمد، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی
امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر اور راشدہ طلیب دوبارہ منتخب
ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز نے ایوان نمائندگان کا سپیکر بننے کا اعلان کر دیا
ایران تنازع مزید بڑھے گا یا ختم ہوگا، ٹرمپ شکست کے بعد کیا حکمت عملی اختیار کریں گے؟
ڈیموکریٹس کی کامیابی: سیاسی مخالفین کا نیتن یاہو سے استعفے کا مطالبہ
امریکی وسط مدتی انتخابات، ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر