لاس ویگاس (شِنہوا) چین کی کمپنیاں شمالی امریکہ کی غذائی سپلیمنٹس کی بڑی نمائش میں صحت سے متعلق اجزاء، جدید مصنوعات اور اپنی پیداواری صلاحیتوں کو پیش کر رہی ہیں۔ ان کا مقصد اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کرنا اور عالمی منڈیوں میں اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینا ہے۔
جمعہ کو لاس ویگاس کے منڈالے بے میں ختم ہونے والی سپلائی سائیڈ گلوبل 2026 نمائش میں ایک ہزار 600 سے زائد کمپنیوں اور شعبے سے وابستہ 20 ہزار سے زیادہ ماہرین نے شرکت کی۔ چینی منتظمین کے مطابق اس نمائش میں تقریباً 600 چینی کمپنیوں نے حصہ لیا جو اب تک چینی کمپنیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
نمائش کے ساتھ چینی صحت بخش اجزاء کے جدید برانڈز کی نمائش بھی منعقد کی جا رہی ہے، جس میں 60 سے زائد چینی کمپنیاں اپنی مصنوعات اور نئی ٹیکنالوجی پیش کر رہی ہیں۔
چین کی بہت سی کمپنیوں نے اب صرف خام مال فراہم کرنے کے بجائے معیاری مصنوعات تیار کرنے اور اپنے برانڈ متعارف کرانے پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔
چین کی بڑی نامیاتی مشروم مصنوعات بنانے والی کمپنی گانوہرب گروپ طویل عرصے سے بیرون ملک کمپنیوں کو خام مال فراہم کرنے کے ساتھ ان کے لئے اپنی مصنوعات بھی تیار کرتی رہی ہے۔ تاہم قیمتوں میں سخت مقابلے کے باعث کمپنی اب تیار شدہ مصنوعات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ اس نمائش میں کمپنی نے ریشی مشروم کے عرق سے تیار کردہ کافی اور چائے بھی پیش کی ہے۔
کمپنی کے صدر اور بانی لی یے نے شِنہوا کو بتایا کہ گانوہرب امریکی منڈی میں اپنے برانڈ کی مصنوعات پر زیادہ توجہ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لئے کمپنی چین میں مشروم کی کاشت کے روایتی تجربے سے فائدہ اٹھائے گی۔
چین کے وسطی صوبے ہونان میں قائم چھانگ شا ہوئر بائیولوجیکل ٹیکنالوجی کمپنی بھی اپنی مصنوعات کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ قدرتی اجزاء اور صحت بخش مصنوعات کے لئے خام مال بیرون ملک فراہم کرنے کے ایک دہائی سے زیادہ تجربے کے بعد کمپنی اب امریکہ میں ایک پروسیسنگ پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جہاں مصنوعات تیار کرکے دنیا بھر میں فروخت کی جائیں گی۔
کمپنی کے جنرل منیجر یوآن ژی نے کہا کہ چین کو مختلف اقسام کے خام مال اور جدید خودکار مشینوں کے ذریعے کم توانائی خرچ کرتے ہوئے پیداوار حاصل کرنے میں برتری حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ پلانٹ کے قیام سے کمپنی کا کاروبار صرف خام مال کی فراہمی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک مکمل سپلائی چین قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
چین کی کمپنیاں عالمی سطح پر غذائی سپلیمنٹس کی صنعت کو خام مال فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یونائیٹڈ نیچرل پراڈکٹس الائنس کے صدر لورین اسرائیلسن نے شِنہوا کو بتایا کہ عالمی غذائی سپلیمنٹس کی صنعت کو درکار تقریباً 80 فیصد خام مال چین فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی منڈی کی کامیابی اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات چاہنے والے صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لئے چین کے اچھے سپلائرز کا ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینی کمپنیوں کے بیرون ملک کاروبار کو وسعت دینے کے ساتھ مقامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔
اسرائیلسن نے بتایا کہ ان کا ادارہ چین کی ادویات اور صحت سے متعلق مصنوعات کی درآمد و برآمد کے ایوان تجارت اور دو چینی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک نظام تیار کر رہا ہے۔ اس نظام کا مقصد سپلائی چین میں رابطوں اور مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے پیداوار اور معیار کی جانچ کے دوران پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو کم کرنے، مصنوعات کا معیار بہتر بنانے اور اخراجات کو خریداروں کی استطاعت کے مطابق رکھنے میں مدد ملے گی۔
صحت سے متعلق مصنوعات بنانے والی چینی کمپنیاں عالمی منڈیوں میں اپنا کاروبار بڑھانے کی خواہاں



