جیا لائی، ویتنام (شِنہوا) ویتنام کے وسطی صوبے جیا لائی میں سفید ریتلی زمین کے وسیع رقبے پر، جسے کبھی کاشت کاری کے لئے غیر موزوں سمجھا جاتا تھا، قطار در قطار نصب شمسی پینل تپتی دھوپ میں چمک رہے ہیں اور اس علاقے کو صاف بجلی پیدا کرنے کے ذریعے میں تبدیل کر رہے ہیں۔
330میگاواٹ نصب شدہ صلاحیت کا حامل فو مائی سولر پاور پلانٹ 323 ہیکٹر سے زائد رقبے پر پھیلا ہے اور اس میں 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد شمسی توانائی کے پینلز شامل ہیں جو اسے ویتنام کے شمسی توانائی کے سب سے بڑے منصوبوں میں شمار کرتے ہیں۔
پاور چائنہ کی جیانگ شی الیکٹرک پاور انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ کے ایشیا بحرالکاہل ہیڈکوارٹرز کے جنرل منیجر ژانگ ہوئی بنگ نے کہا کہ یہ منصوبہ ہر سال تقریباً 52 کروڑ کلو واٹ آور ماحول دوست بجلی فراہم کر سکتا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں تقریباً 4 لاکھ ٹن تک کمی لا سکتا ہے۔
پاور کنسٹرکشن کارپوریشن آف چائنہ (پاور چائنہ) نے فو مائی منصوبے کی ذمہ داری انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن کی بنیاد پر سنبھالی جس میں ڈیزائن، سامان و مواد کی خریداری اور تعمیر شامل ہے۔
یہ تعاون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ویتنام 2021 میں اقوام متحدہ کی 26 ویں موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں 2050 تک کاربن کے اخراج صفر کرنے کے اپنے عزم کو پورا کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔
چین کا تعمیر کردہ شمسی توانائی کا منصوبہ ویتنام کی ماحول دوست توانائی کی طرف منتقلی میں مدد کر رہا ہے



