بیجنگ (شِنہوا) چین کے اہم اقتصادی مرکز، مشرقی صوبہ جیانگسو نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور حقوق ملکیت (آئی پی) کے تحفظ کو یکجا کرنے کے لئے اپنے اقدامات کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ جن کا مقصد جدیدیت کو فروغ دینا اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
صوبائی حکام برائے حقوق ملکیت کے مطابق جیانگسو میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایجادات کی 68 ہزار تخلیقات موجود ہیں۔ 2025 تک صوبے میں اعلیٰ قدر کے حامل ایجادات کی تخلیقات کی تعداد 2 لاکھ 92 ہزار تک پہنچ گئی تھی جو چین میں ایسی تخلیقات کی مجموعی قومی تعداد کا 12.7 فیصد ہے۔
جیانگسو نے اے آئی سے متعلق تحقیق اور کاروباری اداروں کے لئے حقوق ملکیت کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ صوبے بھر میں حقوق ملکیت کے تحفظ کے مراکز نے اے آئی تخلیقات کی درخواستوں کی فوری ابتدائی جانچ کے طریقہ کار متعارف کرائے ہیں جس کے نتیجے میں منظوری کا اوسط دورانیہ 22 ماہ سے کم ہو کر صرف 3 ماہ رہ گیا ہے۔ صوبے نے ایسی اے آئی کمپنیوں کی مدد کے لئے رہنما اصول بھی جاری کئے ہیں جو ایک ہی فرد چلاتا ہے۔ ایسی کمپنیوں کو ’’ون پرسن کمپنیاں‘‘ یا او پی سیز کہا جاتا ہے۔ ان رہنما اصولوں کا مقصد انہیں تخلیقی املاک سے متعلق تقاضوں پر عمل کرنے میں مدد دینا ہے۔
دریں اثنا جیانگسو حقوق ملکیت سے متعلق خدمات کو بہتر بنانے کے لئے بھی مصنوعی ذہانت استعمال کر رہا ہے۔ صوبے نے ڈیجیٹل انوویشن لیبارٹری جیسی اے آئی بنیادی سہولیات کو ترقی دی ہے جبکہ حقوق ملکیت سے متعلق کام کی کارکردگی بڑھانے کے لئے اے آئی ماڈلز اور ان کے عملی استعمال کے مختلف طریقے بھی تیار کئے ہیں۔
چین کے اہم اقتصادی صوبے میں مصنوعی ذہانت اور حقوق ملکیت کے تحفظ کو یکجا کرنے کے اقدامات تیز



