لاہور (نیشنل ٹائمز) پنجاب حکومت نے لائیوسٹاک کارڈ کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے کا بھی آغاز کر دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کارڈ استعمال کرکے لائیوسٹاک کارڈ کے دوسرے مرحلے کا ڈیجیٹل افتتاح کیا۔ اس موقع پر محکمہ لائیوسٹاک سے متعلق دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ پہلے مرحلے میں قرضوں کی واپسی کی شرح 96 فیصد ہونے پر وزیراعلیٰ نے خوشی کا اظہار کیا۔وزیر لائیوسٹاک عاشق حسین کرمانی اور سیکرٹری لائیوسٹاک احمد عزیز تارڑ نے بریفنگ میں بتایا کہ لائیوسٹاک کارڈ کے ذریعے فارمرز کو ہر مویشی کے لیے 27 ہزار روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا۔ لائیوسٹاک کارڈ کے دوسرے مرحلے کے تحت دو سال میں 6 لاکھ مویشیوں کو متوازن خوراک فراہم کرکے گوشت کی پیداوار بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ اس مرحلے میں فارمرز کو مجموعی طور پر 16 ارب 20 کروڑ روپے کے بلاسود قرضے دیئے جائیں گے ۔
فارمرز صرف اصل رقم واپس کریں گے جبکہ سود پنجاب حکومت ادا کرے گی۔ لائیوسٹاک کنیکٹ پورٹل کے ذریعے 23 ہزار فارمرز کو گوشت برآمد کرنے والے اداروں سے براہ راست منسلک کیا گیا ہے ۔ حکومت پنجاب نے گوشت کی برآمدات کے لیے آٹھ بڑے برآمد کنندگان کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ پامکو کے ذریعے چین، سعودی عرب، خلیجی ممالک، آذربائیجان، ازبکستان اور یورپی منڈیوں میں گوشت کی برآمد کے لیے بھی معاہدے کیے گئے ہیں، پہلی مرتبہ لائیوسٹاک کارڈ کی بدولت خواتین فارمرز کی تعداد 90 سے بڑھ کر 1107 ہوگئی ہے ، جبکہ صوبے سے جانوروں کی برآمدات میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ لائیوسٹاک کارڈ کے باعث ایک سال میں پنجاب سے گوشت کی برآمدات میں 9 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی طور پر 23 ہزار 312 فارمرز کے لیے لائیوسٹاک کارڈ تیار کیے گئے ، جبکہ 1739 فارمرز نے 70 ہزار سے زائد لین دین کیے ۔ لائیوسٹاک فارمرز کی رہنمائی کے لیے چوبیس گھنٹے فعال ہیلپ لائن 080009211 بھی قائم کر دی گئی ہے ۔



