بیجنگ (شِنہوا) دنیا کے سب سے بڑے تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک کے حامل چین نے 15ویں 5 سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کے عرصے کے لئے ریلوے کے شعبے میں سائنس و ٹیکنالوجی میں جدت کا منصوبہ جاری کر دیا ہے۔
اس منصوبے میں بنیادی تحقیق اور جدید ترین ٹیکنالوجیز، انجینئرنگ کی تعمیر، تکنیکی آلات، نقل و حمل کی خدمات، ڈیجیٹل اور ذہین ریلوے نظام، تحفظ اور ماحول دوست اور کم کاربن ترقی سے متعلق اہم اہداف کا تعین کیا گیا ہے۔
چین کی قومی ریلوے انتظامیہ (این آر اے) کی جانب سے حال ہی میں جاری کئے گئے اس منصوبے کے مطابق 2030 تک سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت کا ایک جامع نظام بنیادی طور پر قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو ریلوے کی جدت میں رہنمائی فراہم کرے گا۔
2026 سے 2030 کے دوران چین کا منصوبہ ہے کہ قومی ریلوے انتظامیہ کے تحت ریلوے کی صنعت میں سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت کے تقریباً 30 نئے مراکز قائم کئے جائیں، کم از کم 100 اہم بنیادی ٹیکنالوجیز میں پیش رفت حاصل کی جائے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں کم از کم 500 اہم کامیابیاں حاصل کی جائیں۔
منصوبے کے تحت 400 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز رفتار ٹرینوں کے آپریٹنگ نظام سمیت مختلف شعبوں میں کم از کم 20 مخصوص عملی اطلاقی منظرنامے یا آزمائشی منصوبے بھی تیار کیے جائیں گے۔
تکنیکی آلات کے حوالے سے منصوبے میں 600 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز میگلیو ٹیکنالوجی پر تحقیق کو بتدریج اور منظم انداز میں آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ اہم ٹیکنالوجیز کی مقامی سطح پر تیاری، جانچ اور توثیق کو فروغ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
نقل و حمل کی خدمات کے شعبے میں یہ منصوبہ سرکاری ٹکٹنگ پلیٹ فارم 12306 کو محض ٹکٹوں کی خریداری کی سہولت سے اپ گریڈ کرکے پورے سفر کے لئے ذہین خدمات فراہم کرنے والا پلیٹ فارم بنانے کو فروغ دے گا۔ اس کے تحت مختلف ذرائع نقل و حمل کو یکجا کرتے ہوئے سفر کے لئے مربوط سہولیات فراہم کی جائیں گی، جو مسافروں کی انفرادی، مختلف نوعیت اور متنوع ضروریات سے بخوبی مطابقت رکھیں گی۔
چین نے 2026 سے 2030 تک ریلوے کے شعبے میں سائنسی و تکنیکی جدت کا منصوبہ جاری کر دیا



