بیجنگ (شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ نے ملک میں صحت کے شعبے کی ترقی کے لئے چینی خصوصیات کے حامل راستے پر ثابت قدمی سے عمل کرنے پر زور دیا ہے تاکہ 15ویں 5 سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کے دوران صحت مند چین کے اقدام میں فیصلہ کن پیش رفت حاصل کی جا سکے۔
شی جن پھنگ نے بیجنگ میں صحت سے متعلق ایک قومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ عوام کی صحت کسی بھی ملک کی خوشحالی اور طاقت کا ایک اہم پیمانہ ہے۔
شی نے کہا کہ 2012 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد پارٹی نے صحت مند چین کے اقدام کے آغاز کا اہم فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں طبی خدمات، روایتی طب، بیماریوں کی روک تھام و کنٹرول اور صحت کی دیکھ بھال کے مالی تحفظ کے دنیا کے سب سے بڑے نظام قائم کرنے میں پیش رفت ہوئی۔ شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چین نے صحت کے شعبے میں تاریخی کامیابیاں حاصل کرکے ہمہ جہت ترقی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایک ایسا صحت مند چین تعمیر کرنا ہے جہاں صحت کی خدمات متوازن، جامع، معیاری اور موثر انداز میں یقینی بنائی جائیں۔
شی جن پھنگ نے زور دیا کہ عوام کی صحت کو تمام پالیسیوں میں بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے اور حکومتی و انتظامی امور کے ہر پہلو میں اس کی عکاسی ہونی چاہیے۔
چینی صدر نے کہا کہ بیماریوں کی روک تھام عوامی صحت کے تحفظ کا سب سے کم خرچ اور موثر طریقہ ہے۔ انہوں نے بنیادی سطح پر صحت کے شعبے سے متعلق اقدامات کو زیادہ اہمیت دینے، بیماریوں کے خطرات کا ان کی ابتدا ہی میں تدارک کرنے اور عوام کو صحت کے بارے میں درست آگاہی حاصل کرنے کے ساتھ اپنی صحت کی دیکھ بھال میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینے پر زور دیا۔
شی جن پھنگ نے بڑے پیمانے پر بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے بیماریوں کی نگرانی، روک تھام اور کنٹرول کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ طبی اداروں کے افعال اور ان کے ڈھانچے کی ترتیب کو بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ لوگوں کو اپنے گھروں کے قریب طبی سہولتیں میسر آئیں اور وہ موثر علاج حاصل کر سکیں۔
چینی صدر کی ’’صحت مند چین انیشی ایٹو‘‘ میں فیصلہ کن پیش رفت حاصل کرنے کی تاکید



