بینکاک (شِنہوا) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے منگل کے روز 2026 کے دوران عالمی شرح نمو کا تخمینہ معمولی اضافے کے ساتھ 3.1 فیصد کر دیا ہے، جو جولائی میں جاری کردہ تخمینے سے 0.1 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔ اس کی وجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھانے والی معیشتوں کی بہتر کارکردگی ہے، جس نے مشرق وسطیٰ کے تنازع سے متاثر ہونے والی معیشتوں کے منفی اثرات کو کسی حد تک متوازن کیا ہے۔
آئی ایم ایف نے عالمی معیشت کے اپنے تازہ ترین جائزے، جس کا عنوان ’’دباؤ کے باوجود استحکام، فوری فیصلوں کی ضرورت‘‘ ہے، میں پیش گوئی کی ہے کہ عالمی معاشی شرح نمو 2025 کے 3.5 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں 3.1 فیصد رہ جائے گی، تاہم 2027 میں یہ دوبارہ بڑھ کر 3.4 فیصد ہو جائے گی۔ 2027 کا یہ تخمینہ جولائی میں جاری کردہ پیش گوئی کے برابر، جبکہ اپریل کے تخمینے سے 0.2 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔
آئی ایم ایف نے بتایا کہ اب عالمی معاشی ترقی کا انحصار محدود ہوتی ہوئی تعداد میں معیشتوں پر زیادہ ہو رہا ہے۔ اس وقت صرف 32 معیشتیں عالمی معاشی ترقی میں 95 فیصد حصہ ڈال رہی ہیں، جبکہ اپریل میں یہ تعداد 54 تھی۔ تقریباً 47 فیصد معیشتوں کے لئے ترقی کے سابقہ تخمینے کم کر دیئے گئے ہیں۔
فنڈ نے کہا کہ عالمی معیشت کی صورت حال کو محض سست روی یا تیزی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ معاشی ترقی کے مواقع مختلف ممالک کے درمیان منتقل ہو رہے ہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کوئی ملک جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے کس حد تک متاثر ہوتا ہے اور مصنوعی ذہانت سے متعلق طلب سے اسے کتنا فائدہ پہنچتا ہے۔
آئی ایم ایف کے بنیادی تخمینے میں اخذ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز مارچ 2027 میں دوبارہ کھل جائے گی اور اکتوبر 2027 تک حالات مجموعی طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا میں سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اس آبنائے سے گزرتا تھا۔
آئی ایم ایف نے 2026 میں عالمی شرح نمو کا تخمینہ بڑھا کر 3.1 فیصد کر دیا



