چین کا آرکٹک سرکل اسمبلی میں موسمیاتی تبدیلی پر توجہ دینے اور تعاون بڑھانے پر زور

ریکجاوک (شِنہوا)چین کی سابق نائب وزیر خارجہ فو ینگ نے آرکٹک خطے میں سائنسی تحقیق اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس خطے کو درپیش اصل چیلنج موسمیاتی تبدیلی ہے، نہ کہ سلامتی کو لاحق ایسے خطرات جن کا محض تصور کیا جا رہا ہے۔
فو نے یہ بات آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکجاوک میں جمعرات سے ہفتے تک منعقد ہونے والی 2026 آرکٹک سرکل اسمبلی میں چینی وفد کی قیادت کرتے ہوئے کہی۔ اس تقریب میں 70 سے زائد ممالک اور خطوں کے 2,500 سے زیادہ نمائندوں نے شرکت کی، جہاں آرکٹک کو سمجھنے، اس کے تحفظ، ترقی اور انتظام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
“چین کو کیسے سمجھا جائے” کے موضوع پر منعقدہ ایک مکمل اجلاس کے دوران فو ینگ نے آئس لینڈ کے سابق صدر اور آرکٹک سرکل کے چیئرمین اولافور رگنر گریمسن کے ساتھ مکالمہ کیا۔
فو نے کہا کہ اس وقت آرکٹک کو درپیش اصل چیلنج موسمیاتی تبدیلی ہے۔ ممالک کو سلامتی کے ایسے خطرات پر جغرافیائی و سیاسی مسابقت میں الجھنے کے بجائے سائنسی تحقیق اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے زیادہ توجہ اور وسائل صرف کرنے چا ہئیں جن کا محض تصور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی مباحث کا بہت بڑا حصہ فرضی خطرات پر مبنی ہے، جس سے قیمتی وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں۔
فو نے کہا کہ آرکٹک کی سمندری برف کا پگھلنا، برفانی تہوں کا سکڑنا اور درجہ حرارت میں اضافہ جیسے تغیرات پہلے ہی رونما ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ہی وہ حقیقی مسئلہ ہے جس سے ممالک کو مل کر نمٹنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو یکجا کریں، سائنسی تحقیق میں تعاون بڑھائیں، موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا مشترکہ جائزہ لیں اور ان سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کریں۔
فو نے نشاندہی کی کہ چین اور آئس لینڈ کے رہنماؤں کی جانب سے گزشتہ سال جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحول دوست توانائی کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کا عملی تعاون آرکٹک کے امور میں چین کی شرکت سے متعلق اس کی پالیسی اور عزائم کو بہتر طور پر اجاگر کر سکتا ہے۔
چین کی ترقی اور عالمی کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فو نے کہا کہ چین پُرامن ترقی کے لیے پرعزم ہے، عالمی بالادستی حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اس کا یہ بھی ماننا نہیں کہ دنیا کو کسی نئی عالمی طاقت کی بالادستی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے اور عالمی نظم و نسق کے زیادہ منصفانہ اور مساوی نظام کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔
2013 میں قائم ہونے والی آرکٹک سرکل تنظیم ہر سال اکتوبر میں آئس لینڈ میں اپنی سالانہ اسمبلی منعقد کرتی ہے اور آرکٹک کے امور پر مکالمے کے لیے ایک اہم عالمی پلیٹ فارم کا کردار ادا کرتی ہے۔



  تازہ ترین   
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر نے منظوری دے دی
خیبرپختونخوا میں ہر روز دہشت گردی، پانی سر سے اوپر، فیصلے کا وقت آ گیا: وزیراعظم
پاکستان کی ریاض پر حوثی حملے کی مذمت، سعودی خودمختاری کے تحفظ کا عزم
فخر عالم چیف سیکرٹری کے پی تعینات، 15 افسروں کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم
خیبر پختونخوا کے حکومتی امور سے متعلق وفاقی حکمنامہ جاری، 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم
خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس، عوام کو دہشتگردی نے نجات دلائیں گے: گورنر
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا: محسن نقوی
خیبرپختونخوا کی صورتحال پر ایوان صدر میں اہم اجلاس،12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز پر غور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر